لاہور (17 اپریل 2026): سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے حیران کن اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی اصل وجہ بتا دی۔
گوہر اعجاز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بجلی کا حالیہ بحران خالصتاً بدانتظامی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، صنعتوں کو 2 سے 4 جبکہ گھریلو صارفین کو 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ ہونا حیران کن ہے۔
سابق نگراں وفاقی وزیر نے کہا کہ موسم گرما کے آغاز پر ہی بجلی کا شارٹ فال 4090 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے، جون سے اگست کے دوران بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی پیداوار بڑھ گئی
گوہر اعجاز نے مزید بتایا کہ ملک میں 46 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، پیک آورز میں طلب 20 ہزار 520 میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی موجودہ پیداوار صرف 13 ہزار 958 میگا واٹ ہے، جون سے اگست تک ڈیمانڈ 33 ہزار میگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے، حکومت آج ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہی تو جون میں کیا کرے گی؟
ان کا کہنا تھا کہ بجلی بحران پاور سیکٹر کی بدانتظامی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، سستا ترین نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بند پڑا ہوا ہے، گیس کی ناقص تقسیم کے باعث گیس پاور پلانٹس استعمال نہیں ہو رہے، بجلی کا ترسیلی نظام مطلوبہ علاقوں تک بجلی پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
’عوام 46 ہزار میگاواٹ بجلی کے کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں۔ کیپسٹی چارجز کی ادائیگی کے باوجود عوام کو بجلی نہیں مل رہی۔ سوال یہ ہے کہ لوڈ منیجمنٹ کون اور کس طرح کر رہا ہے؟‘
Pakistan’s Power Crisis Isn’t About Capacity, It’s About Management!
It is astonishing that with an installed capacity of 46,605 MW, industry is facing 2 to 4 hours of load-shedding, while domestic and commercial consumers are enduring 7 to 16 hours of darkness every single day.…
— Dr Gohar Ejaz (@Gohar_Ejaz1) April 17, 2026
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


