حکمرانوں اور طاقت ور طبقے کا کبھی احتساب نہیں ہوتا، پاور پلے میں تجزیہ کاروں کی گفتگو dawn-leaks
The news is by your side.

Advertisement

حکمرانوں اور طاقت ور طبقے کا کبھی احتساب نہیں ہوتا، فروغ نسیم، اعجاز اعوان

اسلام آباد: میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں حکمرانوں اور طاقت ور طبقے کا کبھی احتساب نہیں ہوتا جب کہ معروف قانون دان اور سینیٹر بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک کا نام نہاد جمہوریت پسند طبقہ ایسے اقدامات کر گزرتا ہے جو کہ آمر بھی نہیں کرتے۔

یہ بات دونوں شخصیات نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، دونوں مہمان ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال اور پاناما کیس کے فیصلے پر اپنی آراء دے رہے تھے۔

دفاعی تجریہ کا ر میجرجنرل (ر) اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ حکمرانوں اور طاقت ور طبقے کا کبھی احتساب نہیں ہوتا اس کے برعکس احتساب کا پھندا ہر وقت غریب عوام کے گلے میں ڈالا جاتا ہے لہذا عام مشاہدہ ہے کہ طالب علم ، کسان ، مزدور تو گرفتار ہوتے ہیں لیکن کھربوں روپے کی کرپشن میں ملوث افراد کا کچھ نہیں بگڑتا۔

ماہر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے پروگرام میں شریک گفتگو ہوتے ہوئے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ملک کا نام نہاد جمہوریت پسند طبقہ ایسے اقدامات شروع کردیتا ہے جو آمر بھی نہیں کرتے جیسا کہ گزشتہ روز لاہور میں ہوا جب گو نواز گو کا نعرہ لگانے والے طالب علموں اور کھلاڑیوں کو گرفتار کیا گیا جس کا حکم شاید میاں صاحب نے نہیں بلکہ ان کے نیچے کام کرنے والے افراد نے دیا ہو جو شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری نبھاتے ہیں۔

پاناما کیس کے فیصلے کی رو سے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایف آئی اے کا کوئی افسر جے آئی ٹی کا سربراہ ہوگا اور ہوتا یہ ہے کہ جس ادارے کا کوئی افسر سربراہ ہو وہیں سیکرٹریٹ ہوگا اس لیے جے آئی ٹی کا سیکرٹریٹ جہاں بھی ہوگا سپریم کورٹ کے زیر نگرانی کام کرنے کا پابند ہے۔

میجر جنرل(ر) اعجاز اعوان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بار بار کہتی ہے کہ میاں صاحب کا نام پاناما لیکس میں شامل ہی نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں اسے Respondent نمبر 1کہا گیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ نے جن محکموں پر عدم اعتماد کیا ہے جے آئی ٹی میں اکثریت انہی محکموں کے اہلکاروں کی ہے اور جہاں تک اداروں پر حکومتی دباؤ کا تعلق ہے تو آئی ایس آئی کسی بھی دباﺅ میں نہیں آسکتی لیکن باقی اداروں کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ موجودہ جے آئی ٹی مجرمانہ کیس پر نہیں دراصل یہ سول کیس پر بنایا گیا ایک کمیشن ہے جسکے ذمہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے بیرون ملک اثاثہ جات کی تفتیش ہے، جے آئی ٹی بنانے کے فیصلے سے لگتا ہے کہ یہ نیب کے قانون کے تحت کام کرے گی اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے سامنے یہ بات رکھنی چاہئے کہ وہ تفتیش کا دائرہ کار زیادہ وسیع کرنے کے بجائے صرف لندن کے چار فلیٹس پر اپنی توجہ مرکوز رکھے اور اگر اس دوران کوئی خاص شواہد سامنے نہیں آئے تو حکمران خاندان کے دوسرے ذرائع آمدن کی بھی تفتیش کرے کیوں کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دولت کا صرف ساٹھ دنوں میں تفتیش کرنا ممکن نہیں۔

اس موقع پر میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے بارِ ثبوت تو میاں صاحب اور اس کے خاندان پر ڈالا ہے انہوں نے خود سارے شواہد کا اعتراف کیا تھا اگر شواہد موجود ہے تو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کریں۔

ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس کی رپورٹ میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہے لیکن باقاعدہ سرکاری طورپر یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی اس لیے معاملہ ابھی تک مبہم ہے تاہم خبروں میں آیا ہے کہ طارق فاطمی اور راﺅ تحسین پر خبر لیک کرنے کے الزمات لگائے گئے ہیں اور پرویز رشید کو کلیئر قرارد یا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب دو تین روز بعد مکمل رپورٹ باضابطہ طورپر منظر عام پرآجائے گی تو پتہ چلے گا کہ کون خبر لیک کرنے کا ذمہ دار ہے اور کس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ آیا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کوئی بھی رپورٹ فوج کے لئے قابل قبول ہوگی۔

بیرسٹر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ تحقیقات پر عمل درآمد کرنے والے بینچ کے سامنے پیش کی جائے گی کیوں کہ قوم کو صرف آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران سے امیدیں ہیں کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات شفاف ہوگی اس لیے پوری قوم کی نظریں صرف تین اداروں سپریم کورٹ، آئی ایس آئی اور ایم آئی پر لگی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ مزید تفتیش کے لئے کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے خلاف تیس دن کے اندر کوئی بھی فریق نظر ثانی کے لئے درخواست دے سکتا ہے جس بینچ نے فیصلہ دیا تھا اسی کے سامنے نظر ثانی کے لئے درخواست دی جاسکتی ہے البتہ اختلافی نوٹ پر نظر ثانی کے لئے اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔

مکمل پروگرام کی ویڈیو: 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں