The news is by your side.

Advertisement

این آراو کے تحت مجرموں کو چھوڑا جارہاہے

اسلام آباد: شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے اتحاد بنا لیا ہے ‘ آئندہ الیکشن میں وفاق میں مخلوط حکومت بنائیں گے اور اس کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی کی جار ہی ہے‘۔

حسین حقانی کا امریکہ میں سفارت کے دور میں دفتر خارجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ وزیر اعظم کو رپورٹ کرتے تھے بلکہ ان کا براہ راست رابطہ ایوان صدر کے ساتھ تھا۔ اسے دو ملین ڈالر کے خفیہ فنڈ دفتر خارجہ کو علم میں لائے بغیر دیا گیا تاکہ وہ امریکہ میں لابنگ کرسکے بہت سارے ایسے احکامات آتے تھے جن کا دفتر خارجہ کو پہلے علم ہی نہ ہوتا تھا ۔

ان خیالات کا اظہار سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے راہنما شاہ محمود قریشی نے اے آر وائی کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میمو کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نہ وہ خط میری مشاورت سے لکھی گئی تھی اور نہ مجھے اس کا علم تھا۔

آخر خفیہ خط لکھنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟


دفاعی تجزیہ نگار میجرجنرل اعجاز اعوان نے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس کیس کو مذاق بنالیا ہے۔ جب میمو گیٹ سامنے آیا تھا تو میاں نواز شریف کالے کوٹ پہن کر انصاف ڈھونڈنے عدالت پہنچے تھے آج وہ خود وزیر اعظم ہیں۔ یہ ان کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کیس کو دوبارہ اوپن کریں ، یہ غداری کا مقدمہ ہے ۔

مسلم لیگ (ن) کے راہنما انور بیگ نے کہا کہ کس کو پتہ نہیں تھا کہ حسین حقانی کا ماضی کیا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا تھا پھر بھی ان کو سفیر تعینات کیا ۔ ایک سوال پر کہ کیا انٹر پول کے ذریعے حسین حقانی کو دوبارہ واپس نہیں لایا جاسکتا ۔ انور بیگ نے کہا کہ حسین حقانی ہاتھ سے نکل گیا ہے اب اس کیس پر مٹی ڈالنا ہوگی ۔ کیس چل رہاتھا تو کس نے انہیں باہر جانے کی اجازت دی؟ جب وہ فلائٹ سے روانہ ہوگئے تھے تو بائی بائی جی ایچ کیو کہا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کس کیس پرکب تک مٹی ڈالی جائے میمو گیٹ پر کچھ نہیں ہوا ڈان لیکس پر کچھ پیش رفت نہیں ہوئی ۔ لوگ مایوسی کا شکار ہیں۔ عوام کو لگتا ہے کہ طاقتور طبقے کے خلاف کچھ نہیں ہوگا ۔ایان علی پیسوں سمیت رنگے ہاتھوں پکڑی گئی پھر انہیں بھی ضمانت پر رہا کردی گئی اور وہ وکٹری کا نشان بنا کے چلی گئی۔

شرجیل میمن پر اربوں روپے کرپشن کا الزام ہے باہر سے آتے ہی ضمانت بھی ہوگئی اور سونے کا تاج بھی پہنایا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ آج بازار میں ایک اور خبر گرم ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مستقبل کے حوالے سے ایڈجسٹمنٹ ہوگئی ہے جس کے مطابق سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی ، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور وفاق میں اتحادی حکومت بنائیں گے، اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے پنجاب میں بعض حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی تیاریاں ہورہی ہے۔

اس سوال پر کہ اس ساری صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کہاں کھڑی ہے شاہ محمو د قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک ابھرتی ہوئی قوت ہے، عوام کوہم متبادل قیادت فراہم کررہے ہیں اور لوگوں کو بھی متبادل نظر آیا ہے پی ٹی آئی کا اس طرح ابھرنا بعض لوگوں کو چبھ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) پاکستان تحریک انصاف کو ابھرنے سے روکنے کی کوشش میں ہے۔

راہنما پی ایم ایل (ن) انور بیگ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پرڈیکٹیٹر کے خلاف لڑنے کے لئے دستخط ہوئے تھے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حالات تبدیل ہوگئے ۔ جو امید پیدا ہوئی تھی وہ بھی کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کی وجہ سے دم توڑ گئی ہے ۔شاہ محمو د قریشی نے کہا آج منظور وسان کا بیان سامنے آیا ہے کہ 2018کوROs الیکشن نہیں ہونے دیں گے آج وہ بھی مان گئے ہیں کہ 2013کو ROsانتخابات ہوئے تھے جب ہم یہی کچھ کہہ رہے تھے تو کیوں ہمارا ساتھ نہیں دیاگیا ؟ نوجوان نسل اس ساری لوٹ کھسوٹ سے مایوس ہوچکے ہیں۔

شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جنرل اعجاز اعوان نے کہا کہ رینجر اورخفیہ اداروں نے انہیں بلیک کیا تھا ،جن کو بلیک کیا جائے وہ واضح مجرم تصور ہوتا ہے انہیں کئی سالوں سے عدالتیں ضمانت نہیں دے رہی تھی لیکن چند دنوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ان کو ضمانت بھی دی گئی لگتا ہے ایک اور این آر او ہوا ہے جس کے بعد ہی مجرم ضمانتوں پر رہا ہورہے ہیں۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر سیکیورٹی کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں کوئی کاروائی کیوں نہیں ہورہی ہے اس کے جواب میں جنرل اعجاز اعون نے کہا کہ پہلے ایبٹ آباد میں راز فاش کرکے امریکیوں کے ذریعے دنیا کی سب سے بڑے دہشت گرد کو مروا کر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی گئی اب ڈان لیکس بھی اسی سلسلے کا تسلسل ہے ڈان لیکس کو چھ ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے ۔لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔ انور بیگ کا کہنا تھا وقت آگیا ہے کہ حساس معاملات پر واضح فیصلے ہوں۔ عدلیہ کو باہر نکل کر جرات مندانہ فیصلے کرنا ہو گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو لوگ اداروں کی کارکردگی سے مایوس ہیں۔ پہلے ان کے پاس متبادل موجود نہیں تھا اب پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینا ہوگا۔

جنرل اعجاز اعوان نے کہا کہ مضبوط ادارے کرائسز سے ملک کو نکالتے ہیں دونوں جماعتوں پر سنگین الزامات کے باوجود فوج اور عدلیہ خاموش ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ دونوں ادارے سامنے آکر اپنا کردار اداکریں میں یہ نہیں کہتا کہ فوج ٹیک اوور کرلیں لیکن بہرحال سیکیورٹی کے حساس معاملات پر فوج اور عدلیہ کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے ۔


مکمل پروگرام دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں