The news is by your side.

Advertisement

پیکا آرڈیننس کے خلاف پیپلز پارٹی بھی عدالت پہنچ گئی

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی متنازع پیکا آرڈیننس کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا، پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے قانون کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

بدھ کے روز پی پی رہنما فرحت اللہ بابر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا قانون کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے مذکورہ آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں سیکرٹری قانون، سیکرٹری صدر پاکستان ہائوس، سیکرٹری آئی ٹی اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیکا آرڈیننس اسلامی جمہوریہ کے آئین کے خلاف ہے اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اس لیے اسے غیر آئینی آرڈیننس قرار دیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پیکا 2016 کا سیکشن 37(1) مبہم، غلط، اوور بورڈ، ضرورت سے زیادہ تفویض اور غیر آئینی ہے، پیکا 2016 کے سیکشن 37(1) خاص طور پر پاکستان کی سالمیت، سلامتی اور دفاع کی تعریف ہے۔

درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ عدالت سیکشن 37(1) اور (iv) ایسی دوسری ریلیف دے جو عدالت مناسب سمجھے،

واضح رہے کہ سندھ کے وزیراطلاعات اور پی پی رہنما سعید غنی نے بھی پیکا قانون میں ترمیم کو زباں بندی کی کوشش قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ”پیکا کے قانون میں ترمیم زباں بندی کی کوشش ہے

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا تھا کہ غلط خبر کو جواز بناکر کسی کو بھی جیل میں ڈال دیاجائے گا،کیا یہ دہشت گردی ہے یا قتل جو ضمانت بھی نہیں ہوگی، ایسے کالے قوانین فوجی آمر کے دور میں بھی نہیں بنائے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں