The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے رہنماؤں کی ملاقات: پی پی کا اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ

پی پی اور ایم ایم اے نے الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کے درمیان اہم ترین ملاقات میں پی پی نے اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے دارلحکومت میں ہونے والی اہم ترین ملاقات میں دونوں جماعتوں نے الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔

پی پی وفد اور ایم ایم اے رہنماؤں کی ملاقات میں انتخابی صورتِ حال سے متعلق اہم مشاورت کی گئی، ملاقات کے بعد پی پی وفد نے میڈیا سے گفتگو کی۔

پیپلز پارٹی کے وفد کے سربراہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ انھوں نے اسمبلی میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن مستعفی ہو۔

ملاقات میں الیکشن میں شکست کا معاملہ پارلیمنٹ کے فلور پر اٹھانے پر زور دیا گیا، تاہم مولانا فضل الرحمان کی طرف سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کل آل پارٹیز کانفرنس میں کریں گے۔

یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اپنی آواز قومی اسمبلی میں اٹھانا ہوگی۔ پی پی وفد میں خورشید شاہ، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ شامل تھے۔

فضل الرحمان


دوسری طرف ایم ایم اے رہنما فضل الرحمان نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بھی انتخابات کو دھاندلی قرار دیا ہے، ہم اس الیکشن کو تسلیم نہیں کرتے، یہ دھاندلی زدہ ہیں۔

پنجاب میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ جاری، شہباز شریف کی پیپلز پارٹی رہنما سے ملاقات

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ جمہوری جماعتیں موجودہ صورتِ حال میں بھرپور کردار ادا کریں، ہم عوام کے حق کی جنگ لڑیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی اس بات پر متفق ہو گئی ہیں کہ پارلیمان میں بیٹھ کر مضبوط حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا جائے، دونوں نے الیکشن کمشنر سے فی الفور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں