اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

پیپلز پارٹی سولر نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر وفاق سے ناراض

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی: حکمران جماعت کی اتحادی پیپلز پارٹی سولر نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر وفاق سے ناراض ہوگئی۔

ذرائع پی پی پی کے مطابق وفاق نے اتحادیوں کے اعتراضات کے باوجود نیٹ میٹرنگ سے متعلق فیصلہ کیا جس پر صدر مملکت آصف زرداری نے نیٹ میٹرنگ کا معاملہ وزیر اعظم کےسامنے اٹھایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کا وفاق سے بیشتر بلز پر اختلاف ہے۔

وفاق اور پنجاب حکومت کے رویے سے متعلق راجہ پرویز نے بھی صدر سےشکایت کی تھی۔ پنجاب کے بیشتر معاملات میں پیپلز پارٹی کیساتھ وفاق کے رویے پر اظہارِافسوس کیا گیا ہے۔

نیٹ میٹرنگ کا نیا بلنگ نظام متعارف، ٹیرف کا بھی اعلان

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں حالیہ تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات پالیسی کی بجائے ریگولیٹری نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ سے بچانا ہے۔

وزیر نے وضاحت کی کہ نیپرا کا بنیادی کام صارفین کے مفاد کا تحفظ کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے صارفین کے ساتھ پہلے سے طے شدہ کسی شق میں تبدیلی نہیں کی اور موجودہ سات سالہ نیٹ میٹرڈ کنٹریکٹس برقرار ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور اس کے باوجود سولر پاور جنریشن میں 8,000 میگاواٹ اضافہ متوقع ہے۔

نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ حکومت کی ایک اورغلط پالیسی ہے، مفتاح اسماعیل

انہوں نے بتایا کہ 2018-22 کے دوران بجلی کی بلند قیمتوں کی بنیادی وجہ روپے کی تیز شرحِ کمی تھی، جس کے اثرات سے موجودہ حکومت نمٹ رہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور پاکستان نے اپنی پاور مکس میں 55 فیصد صاف توانائی حاصل کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

وزیر توانائی نے کہا کہ فارن آئل کے استعمال کو تقریباً ختم کر دیا گیا ہے اور بین الاقوامی اداروں نے حکومت شہباز شریف کے پاور سیکٹر اصلاحات کی تصدیق کی ہے، آزاد پاور پروڈیوسرز کے معاملات میں حکومت نے معاہدے جائزے اور تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر کیں، اور اثر و رسوخ رکھنے والے گروپس کے دباؤ میں نہیں آئی۔

صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ 34.5 ملین بجلی صارفین میں سے صرف 466,000 نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کو 26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدنے کی اجازت دینے سے عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا۔

اویس لغاری نے تصدیق کی کہ نیپرا کی منظور شدہ شرحوں کے تحت نئے صارفین اپنی سرمایہ کاری تین سال میں واپس حاصل کر سکتے ہیں، اگر ریگولیشنز میں اصلاح نہ کی جاتی تو عام صارفین کے لیے فی یونٹ 5 روپے کا اضافی بوجھ پیدا ہوتا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں