The news is by your side.

Advertisement

پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کا دو ٹوک اعلان

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کی نائب صدر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی پی ڈیم کے عہدے چھوڑ چکی ہے، ایسے کسی اتحادکا حصہ نہیں بنیں گے جو ہمیں ڈکٹیٹ کرے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد پی ڈی ایم رہنماؤں کی مشترکہ کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی ایسے اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتے جو ہمیں ڈکٹیشن دے، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کے عہدوں سے مستعفی ہوچکی ہے‘۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا اب تک پی ڈی ایم والوں نے اسمبلی نشستوں سے استعفےدیے؟‘۔

شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پی ڈی ایم قیادت کے سامنے اپنی شرائط پیش کردیں ہیں، ہم پی ڈی ایم کے پاس کیوں جائیں جبکہ اتحاد کی بانی پی پی ہے اور ہم کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلکہ عوام کو جواب دہ ہیں‘۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم اجلاس، الیکٹرونک ووٹنگ مشین کی تجویز مسترد، پی پی، اے این پی پر فیصلہ برقرار

اُن کا کہنا تھا کہ کوئی ایک جماعت دوسری جماعت کو شوکاز نوٹس دینے کا حق نہیں رکھتی،  عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ساتھ مل کر اگلا لائحہ عمل طے کریں گے‘۔

قبل ازیں تین روز قبل پی پی پی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا تھا کہ ’پی پی آزاد سیاسی جماعت ہے، ہم کسی دوسری سیاسی جماعت کے تابع نہیں اور نہ کسی سے پی ڈی ایم میں واپسی کی درخواست کی‘۔

شیری حمان کا کہنا تھا کہ ’پی پی کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ کسی جماعت کو وضاحت پیش نہیں کی جائے گی، اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کا مقصد پارلیمان میں جمہوری کردار ادا کرنا تھا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پیپلزپارٹی آزاد سیاسی جماعت ہے اور پارلیمانی سیاست پریقین رکھتی ہے، ہمیں پی ڈی ایم میں شمولیت کی پیش کش ضرور کی گئی مگر ہماری طرف سے کسی سے واپسی کی درخواست نہین کی گئی‘۔

پی پی پی کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن جماعتوں کے بعض عناصر آپس میں لڑرہے ہیں، جس کا نقصان کسی اور کو نہیں بلکہ حزبِ اختلاف کو ہی ہے، ایک منصوبہ بندی کے تحت ایسے وقت میں پی ڈی ایم میں دراڑ ڈالی گئی جب ہم منزل کے بہت قریب پہنچ چکے تھے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم میں واپسی سے متعلق پی پی کا بڑا جواب

اُن کا کہنا تھا کہ ’ بدین کے ضمنی انتخابات میں 16رکنی اتحادایک جیالےکے ہاتھوں شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے،  اسی وجہ سے  بعض عناصر حکومت مخالف مہم چھوڑ کر پی پی کو نشانہ بنا رہے ہیں‘۔

شیری رحمان نے تجویز دی کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اپوزیشن کریں، حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے درمیان آپسی تنازعات سے اپوزیشن کی کسی جماعت کو کوئی فائدہ نہیں ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں