The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی نے انتخابات 2018 کے لیے اپنا منشور پیش کردیا

معاشی انصاف، غربت میں کمی، تعلیم اور بنیادی صحت، معذور افراد کو معاشرے کا حصہ بنانا، زرعی اصلاحات، خواتین کی خود مختاری اور نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی فراہمی منشور کے بنیادی اجزا ہیں

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا انتخابی منشور جاری کردیا، انتخابی منشور 76 صفحات پر مشتمل ہے، منشور پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پیش کیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے پریس کانفرنس میں پی پی کا منشور جاری کردیا۔

معاشی انصاف، غربت میں کمی، تعلیم اور بنیادی صحت، معذور افراد کو معاشرے کا حصہ بنانا، زرعی اصلاحات، خواتین کی خود مختاری اور نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کی فراہمی منشور کے بنیادی اجزا ہیں۔

پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورت حال عدم استحکام کا شکار ہے، ملک کو توانائی سمیت کئی بحرانوں کا سامنا ہے، پاکستان کا ہر شعبہ بد حالی کا شکار ہے، آج پاکستان مقروض اور خارجی و سفارتی سطح پر تنہا ہوگیا ہے، عالمی سطح پر کوئی بھی ملک پاکستان کا مؤقف سننے کو تیار نہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملکی ادارے بھی باہمی تصادم کا شکار ہیں، چار سال تک یہ ملک بغیر وزیر خارجہ کے چلتا رہا، پارلیمنٹ کو تمام معاملات سے بے خبر رکھا گیا، ن لیگ دورمیں نیشنل ایکشن پلان کو غیر فعال بنا دیا گیا، عوام کو سستی بجلی ملی نہ سستا پیٹرول ملا۔

بلاول نے کہا کہ ایسے دور میں میری سیاسی زندگی کا آغاز ہونے جا رہا ہے، میں ملک کےعوام کو مسائل کا حل پیش کرنے جا رہا ہوں، پیپلز پارٹی نے پچھلے دور میں کچھ بڑی اصلاحات کی تھیں، ہمیشہ پارلیمان کو اعتماد میں لیا، شمسی ایئر بیس بند کیا، سلالہ حملے پر 7 ماہ تک نیٹو سپلائی لائن بند کی، امریکا سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، پہلی بار کسی سپر پاور نے پاکستان سے معافی مانگی۔

پیپلز پارٹی کا منشور


بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو مستحکم اور مضبوط پاکستان چاہتی تھیں، ہم عوام اور ریاست کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیں گے، منشور میں ماں، بچے کی صحت اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ منشور میں غربت کے خاتمے، تعلیم اور بنیادی صحت کو اہمیت دی گئی ہے، معذور افراد کو معاشرے کا اہم حصہ بنانے کا بھی پروگرام شامل ہے۔

پیپلز پارٹی نے ہمیشہ استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ہے، معاشی انصاف کی فراہمی کے تحت غربت کے خاتمے کے لیے پاورٹی ریڈکشن پروگرام لایا جائے گا، کم سے کم اجرت بنیادی ضروریات سے منسلک ہوگا، بھوک مٹاؤ پرگرام شروع کریں گے، قومی سطح پر فیصلہ سازی میں عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آبائی ذخائر میں اضاٖفہ کیا جائے گا، آب پاشی نظام بہتر بنانے کا پروگرام بھی منشور کا حصہ ہے، نئی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جائے گا، تجارت و صنعت کو فروغ دیا جائے گا، لیبر پالیسی بنائی جائے گی، خواتین کی اقتصادی خود مختاری بھی پی پی منشور کا حصہ ہے۔

پی پی منشور کے مطابق پارلیمنٹ، ریاستی ادارے اور جمہوریت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری، سفارت کاری اور عالمی روابط میں نئی جان اور خارجہ پالیسی کو نئی جہت دی جائے گی، ریاست کے تحفظ اور دفاع سے متعلق اقدامات بھی منشور میں شامل ہیں، پاکستان کو دنیا میں جائز مقام دلانا منشور کا حصہ ہے۔

بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی، فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، گلگت بلتستان میں بھی انتخابات پاکستان کے انتخابات کے ساتھ کرائیں گے، گلگت بلتستان میں ن لیگ کے غیرجمہوری اقدامات ختم کریں گے، موقع ملا تو ملک کے وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، دنیا کو باور کرائیں گے کہ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عالمی دہشت گردی سے دنیا کو آگاہ کریں گے، دنیا کو بتائیں گے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔

پاکستان زرعی ملک ہے، 40 فی صد آبادی اس سے منسلک ہے، ملک میں 150 سے زائد ٹیکسٹائل یونٹ کم ہوچکے ہیں، انڈسٹریل گروتھ بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے، زرعی اصلاحات کا انقلابی پروگرام ہمارے منشور میں شامل ہے، کسانوں کو بے نظیر کسان کارڈ دیا جائے گا، کارڈ سے کسانوں کو سبسڈی، سستی کھاد ملے گی، محنت کشوں کا تحفظ کیاجائے گا۔

عوام کے تحفظ کے لیے مزید ڈیم بنائے جائیں گے، پانی کی بچت محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، غذائی قلت کے سنگین مسئلے کے حل کے لیے پیپلز فوڈ کارڈ متعارف کرائیں گے جس سے عوام کو کھانے کی اشیا کم قیمت پر مل سکیں گی۔ پاکستان میں پہلی بار فیملی ہیلتھ سروس کا آغاز کیا جائے گا، شہروں میں بھی سرکاری ڈسپنسریاں کھولی جائیں گی۔

پروگرام جو منشور کا حصہ ہیں


ماں، بچے کی صحت کا پروگرام
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
پاورٹی ریڈکشن پروگرام
بھوک مٹاؤ پرگرام
آب پاشی نظام بہتر بنانے کا پروگرام
زرعی اصلاحات کا پروگرام
پیپلز فوڈ کارڈ
فیملی ہیلتھ سروس

پاکستان نوجوان ملک ہے


بلاول نے کہا کہ پاکستان نوجوان ملک ہے، اس کے دو بڑے مسائل ہیں جنھیں حل کرنا ہوگا، معیاری تعلیم اور روزگار، ہمیں نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ہوگا، نوجوانوں کو امید دلانی ہوگی، ان کے ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانا ہے، اقتدار میں آکر نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار کا پروگرام شروع کریں گے۔

پیپلز پارٹی کا پچھلا دورِ حکومت


بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی کے پچھلے دورِ حکومت سے متعلق کہا کہ اس وقت پوری دنیا تاریخی معاشی بحران سے گزر رہی تھی، دو بڑے سیلاب آئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، تمام مسائل کے با وجود پی پی حکومت نے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا، لاکھوں سرکاری ملازمین کی پنشن اور اجرت میں اضافہ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق 2025 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ہونا شروع ہوگا، پانی کی قلت دور کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ نسلوں سے زیادتی ہوگی، مٹھی میں آر او پلانٹ اور سندھ میں کئی چھوٹے ڈیم بنائے ہیں، افسوس کے پی، پنجاب میں پانی کے مسائل پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ہم نے سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں 23 فی صد اموات دل کے امراض سے ہوتی ہیں، مٹھی، نواب شاہ اور دیگر شہروں میں دل کے امراض کے اسپتال کھولے ہیں، ایس آئی یو ٹی میں گردے کی مفت پیوند کاری ہوتی ہے، کینسر کے جدید علاج کی واحد مشین پاکستان میں کراچی میں ہے، ہر شخص کو مفت اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

آصف علی زرداری


قبل ازیں پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کہ ہم نے پانچ سال میں صرف سیاسی نہیں بلکہ ترقیاتی کام بھی کیے تھے مگر ڈھول کم بجایا۔

آصف زرداری نے کہا کہ چین سے 500 ملین ڈالر گرانٹ لے کر ہم نے سڑکیں بنائیں، ہمارے منشور کا نعرہ ہے بی بی کا خواب نبھانا ہے پاکستان بچانا ہے۔

آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عطا آباد جھیل خطرہ بن کر منڈلا رہی تھی، جھیل ٹوٹ جاتی تو پھر پورا حسن ابدال چلا جاتا، ہم نے گوادر پورٹ سنگاپور سے لے کر چین کو دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں