اسلام آباد (07 جون 2026): پاکستان پیپلز پارٹی کو ارکان کی جانب سے آزاد کشمیر میں مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے یا کمی کی حمایت کے دباؤ کا سامنا ہے۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے زرداری ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کا احوال سامنے آیا ہے، پہلا اجلاس وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، دوسرا انچارج سیاسی امور فریال تالپور کی زیر صدارت ہوا۔
ذرائع پی پی کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر ارکان کی اختلافی آرا سامنے آئیں، متعدد ارکان نے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کی نشستوں پر پارٹی واضح مؤقف اختیار کرے، رائے دی گئی کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے یا تعداد میں کمی کی حمایت پر غور کیا جائے۔
ارکان کی رائے تھی کہ واضح پالیسی نہ اپنائی تو آئندہ انتخابات میں ن لیگ کو سیاسی فائدہ مل سکتا ہے، مہاجرین نشستوں کو برقرار رکھنے سے پیپلز پارٹی کو سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، بعض ارکان کی تجویز تھی کہ مہاجرین کی نشستوں کو 12 سے کم کر کے 6 کرنے کے مؤقف پر غور کیا جائے۔
حکومت نے مظفر آباد میں دفعہ 144 نافذ کر دی
ارکان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے مؤقف کی حمایت کر کے عمومی حمایت حاصل کی جائے، پیپلز پارٹی رہنما نے کہا آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلز پارٹی کو اپنا مؤقف پہلے ہی واضح کرنا چاہیے تھا۔
واضح رہے کہ ہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر حمایت یا مخالفت کا حتمی فیصلہ بلاول سے مشاورت سے مشروط ہے، فریال تالپور نے کہا کہ حتمی پالیسی چیئرمین بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد طے کی جائے گی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے آج پی پی آزاد کشمیر کا اہم اجلاس طلب کیا ہے۔
حکومت اور پیپلز پارٹی وفود کی ملاقات
دوسری طرف ذرائع پی پی کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی وفود کی ملاقات آج شام ایوان صدر میں ہوگی، صدر مملکت آصف زرداری اور بلاول بھٹو ملاقات میں شریک ہوں گے، پی پی وفد راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، شیری رحمان پر مشتمل ہوگا، وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات میں شرکت کا بھی امکان ہے۔
پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق نائب وزیر اعظم، وزیر خزانہ، احسن اقبال ملاقات میں شرکت کریں گے، پیپلز پارٹی حکومتی وفد کو بجٹ سے متعلق تحفظات سے آگاہ کرے گی، پی پی حکومت سے بجٹ سے متعلق معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرے گی، ملاقات کے دوران وفاقی بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات ہوگی۔


