The news is by your side.

Advertisement

اس بار بھی ہم پہلے کی طرح باعزت بری ہوں گے: بلاول بھٹو زرداری

لاڑکانہ: پیپلز  پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اس بار بھی ہم پہلے کی طرح باعزت بری ہوں گے.

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے جیالوں کوسلام پیش کرتا ہوں، بی بی کی جدائی کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے.

انھوں نے کہا کہ میری کوئی امید ہے، تو بی بی شہید کے جیالے ہیں، ملک کے کونے کونے میں جیالے بی بی شہید کی یاد میں دیپ جلائے بیٹھے ہیں، غریب کو جکڑنے والے استحصال کو ختم کرنا ہے.

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے راستےمیں کانٹے بکھیرے جائیں گے، قسم ہے مجھے شہیدوں کی، میں لڑوں گا، ہرظلم کے آگے ڈٹ جاؤں گا.

انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی دیواریں کتنی کمزورہو چکی ہیں، دو سال سے کہتا آرہا ہوں کہ نوجوانوں کو دیوارسے مت لگائیں۔

انھوں نے حکومت کے ایک کروڑ نوکریوں اور سو روزہ پروگرام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بڑھتی مہنگائی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں‌ لیا.


مزید پڑھیں: جمہوری طریقے سے الیکشن جیت کر ہم دوبارہ واپس آئیں گے، آصف زرداری


بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے اوپر اس وقت کے کیس ڈال رہے ہیں، جب میں ایک سال کا تھا، اگر میں‌ اتنا تیز بچہ تھا تو مجھے ستارہ امتیاز ملناچاہیے تھا اور یہ نوٹسز بھیج رہے ہیں، اس بار بھی ہم پہلے کی طرح باعزت بری ہوں گے.

اس موقع پر انھوں نے نیب کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیب کی سرگرمیاں صرف اپوزیشن تک محدود کیوں ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ عدالتوں کو گمراہ کیا جارہا ہے، ہمارے صدقے کے بکروں، دھوبی کا بھی حساب لیاجارہاہے، ہمارے گھر کی عورتوں پر بھی مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تیسری نسل کا احتساب ہورہا ہے، بی بی شہید کے قاتلوں کو کب کٹہرے میں کھڑا کیاجائے گا، بی بی شہید قوم کی بیٹی اور لیڈر تھی ،11سال بعد بھی انصاف کی منتظر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کا سب سے بڑا جرم پاکستان کھپے کا نعرہ لگانا تھا، سی پیک جیسا عظیم منصوبہ شروع کرنا آصف زرداری کا جرم تھا، 18 ویں ترمیم سے آئین کو اصل شکل میں بحال کرنا آصف زرداری کا جرم تھا، پاک ایران گیس پائپ لائن جیسے منصوبے آصف زرداری کے جرم تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہم کل بھی عدالتوں میں پیش ہوئے آئندہ بھی ہوں گے، ہم پہلے بھی سرخرو ہوئے ہم اب بھی سرخرو ہوں گے، ہم نہ صرف ان عدالتوں بلکہ عوام کی عدالتوں میں بھی پیش ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں