The news is by your side.

Advertisement

پی پی قیادت کا حکومتی بجٹ کے خلاف سخت احتجاج کا فیصلہ

کراچی :وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ ملنے پر پیپلزپارٹی کے قیادت نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کا فیصلہ کرلیا۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے بعد آصف علی زرداری کی سربراہی میں پارٹی رہنماؤں کا دبئی میں اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں چیئرمین پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، فریال تالپور اور  پیپلز پارٹی کی دیگر اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔

اجلاس میں پانامہ لیکس کی تحقیقات اور ٹی او آرز کے حوالے سے حکومت کے خلاف سخت مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ، اعجاز دھرماں اور گیان چند نے حکومتی بجٹ کو اعداد و شمار میں تبدیلیاں قرار دیتے ہوئے اسے عوام کے خلاف سازش قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سب سے زیادہ 70 فیصد ٹیکس ادا کرنے والے صوبے کو نظر انداز کردیا، ایسا بجٹ حکومتی ناکامی کا اعتراف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ میں بڑے ترقیاتی منصوبے کے حوالے سے بجٹ میں کوئی حصہ نہیں رکھا، حکمران جماعت سماجی کاموں، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔

پی پی سینیٹرز نے مزید کہا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنز میں اضافے سے ملازمین کی زندگیوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

اس بجٹ کے ذریعے موجودہ حکومت نے مراعات یافتہ طبقے اور اشرافیہ کو تحفظ فراہم کیا ہے، حکومت کا بجٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرنا حکومتی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

پی پی سینٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کی جائے اور بلاواسطہ غیر ضروری ٹیکس کو ختم کرنے اعلان کیا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں