site
stats
اہم ترین

آئی ایس آئی کے ذریعے ہماری حکومت گرائی گئی، بلاول

bilawal bhutto

حیدرآباد: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے خلاف آئی جے آئی بنائی گئی تو کبھی آئی ایس آئی کے ذریعے ہماری حکومت ختم کرائی گئی، جب بھٹو پھانسی سے نہیں ڈرا تو بے نظیر موت سے کیسے گھبراتی؟ ن لیگ اور پی ٹی آئی اپنے مفادات کے لیے وطن کو بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بات انہوں نے حیدر آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

امام حسینؓ نے قربانی دے کر قیامت تک کے لیے مثال قائم کی

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امام حسینؓ نے قربانی دے کر قیامت تک کے لیے ایسی مثال قائم کردی جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور اس فلسفے کو پاکستان پیپلز پارٹی سے زیادہ کون جانتا ہے جو اپنے قیام سے آج تک اتنی آزمائشوں سے گزری ہے جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

ضیا کی خونخوار آمریت کے آگے جیالے ڈٹ گئے

انہوں نے کہا کہ ہم نے آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، بہت ظلم سہے لیکن پیچھے نہیں ہٹے،  جنرل ضیا کی خون خوار آمریت کے آگے پی پی کے جیالے ہی ڈٹے تھے، جیالوں نے خود سوزی کرکے احتجاج کی نئی روایت قائم کی، ان قربانیوں میں سب سے بڑا نام ذوالفقار علی بھٹو کا تھا جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

خطاب کی مکمل ویڈیو:

آئی ایس آئی کے ذریعے ہمارے حکومت ختم کرائی گئی

انہوں نے کہا کہ بھٹو کے بعد بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے پارٹی سنبھالی اور ایک بار پھر جمہوری حکومت قائم کی لیکن سازشیں ختم نہ ہوئیں، کبھی آئی جے آئی بنائی گئی تو کبھی آئی ایس آئی کے ذریعے ہماری حکومت ختم کرائی گئی ہم پر جھوٹے کیسز بنائے گئے، ہمیں جلاوطن کیا گیا اور  عوام سے دور کیا گیا لیکن ہم نے عوام کا ساتھ نہیں چھوڑا تو عوام بھی ہمارے ساتھ رہے، جب بھٹو پھانسی سے نہیں ڈرا تو اس کی بیٹی بے نظیر موت سے کیسے گھبراتی؟

کارساز حملہ بے نظیر کا حوصلہ نہ توڑ سکا

بلاول نے کہا کہ برسوں کی جلاوطنی کے بعد بے نظیر جب 10 سال قبل 18 اکتوبر کو وطن واپسی آرہی تھی تو  کارساز پر ان پر حملہ کیا گیا، کارساز کی سڑکیں خون سے سرخ ہوگئیں، کراچی سے جنازے اٹھے، اتنے بڑے حملے کے باوجود ڈکٹیٹر مشرف بے نظیر  کا حوصلہ نہ توڑ سکے اور بے نظیر اسپتال سمیت شہدا کے گھروں پر بھی تعزیت کے لیے گئیں، وہ محفوظ رہیں مگر قاتلوں نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور راولپنڈی میں شیطانی قوتوں نے حملہ کرکے انہیں شہید کردیا۔

ضیا الحق نہیں رہا، مشرف بھاگ گیا لیکن بھٹو اور بی بی زندہ ہیں

ان کا کہنا تھا کہ آمر ضیا الحق نہیں رہا، مشرف بھاگا ہوا ہے لیکن بھٹو شہید اور بے نظیر آج بھی زندہ ہیں، بے نظیر کے بعد آصف زرداری نے پارٹی کو زندہ رکھا، ہمارے خلاف سازشیں جاری ہیں مخالفین پہلے کی طرح پھر ناکام، شرمندہ اور مایوس ہوں گے، ہم ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں جو انصاف پر مبنی ہو مگر جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

ن لیگ اور پی ٹی آئی مفادات کے لیے وطن قربان کرنے کو بھی تیار ہیں

انہوں نے کہا کہ ایک طرف ن لیگ اور دوسری طرف پی ٹی آئی ہے یہ دونوں اپنے ذاتی مفاد کے لیے سیاست کرتے ہیں انہیں عوام کی کوئی پروا نہیں، ن لیگ ایک خاندان کو بچانے اور نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کے لیے قانون سازی کرتی ہے، دونوں جماعتیں اپنے مفادات کے لیے وطن قربان کرنے کو تیار ہیں۔

اناپرست اور اناڑی شخص کرکٹ گراؤنڈ سے باہر نہیں نکلا

چیئرمین پی پی نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح ایک اور ٹولہ ہے جس کی قیادت ایک ایسے اناپرست اور اناڑی شخص کے پاس ہے جو کرکٹ گراؤنڈ سے باہر ہی نہیں نکلا، سیاست گالم گلوچ اور جھوٹے الزامات کا نام نہیں، میں یہ سب کچھ نہیں کرتا، سیاست میرے لیے عبادت ہے جو میرے بڑوں نے کی اور میں بھی کررہا ہوں۔

یہ لوگ کرپشن کو صرف نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں

بلاول نے کہا کہ یہ لوگ کرپشن کو صرف نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، یہ نہیں جانتے کہ کرپشن ایک بوسیدہ نظام کا حصہ ہے، جب تک لوٹ مار کا نظام قائم ہے تب تک اس ناسور کا خاتمہ ممکن نہیں، چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا، ہماری جدوجہد اس نظام کے خلاف ہے۔

میاں صاحب نے سندھ کو کچھ نہ دیا، سندھ میں ترقی ہمارے دور میں ہوئی

بلاول نے کہا کہ میاں صاحب چار بار سندھ آئے اور ہر بار اربوں روپے دینے کا اعلان کیا اور ان کا آج تک کچھ پتا نہیں، یہ صرف پی پی کی حکومت ہے جو سندھ میں کام کرتی ہے سندھ میں جو کچھ بھی ترقی ہوئی ہمارے دور میں ہوئی، میاں صاحب سندھ میں آکر صاف جھوٹ بولتے ہیں کہ سندھ کھنڈر بن گیا، یہ کھنڈر کبھی نہیں بن سکتا جسے شاہ لطیفؒ اور قلندرؒ کی دعا ہو وہ دھرتی کبھی کھنڈر نہیں بن سکتی۔

سندھ کو اس کے حصے کا پانی نہیں ملتا

انہوں نے کہا کہ میں دعویٰ نہیں کرتا کہ سب ٹھیک ہوگیا یہاں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے، پورے سندھ میں اربوں روپے کی لاگت سے منصوبے مکمل کیے گئے اور مزید انقلابی کام جاری ہیں مگر سندھ کو اس کے حصے کا پانی بھی نہیں ملتا، یہ کیسا انصاف ہے کہ جب پانی زیادہ ہو تو ڈیم کے دروازے کھول کر سندھ کو ڈبو دیا جائے اور جب پانی کم ہو تو سندھ کو پیاسا مار دیا جائے، پانی کی اس غیر منصفانہ تقسیم سے سندھ متاثر ہے۔

خیال رہے کہ سانحہ کارساز کے دس برس مکمل ہونے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے آج حیدر آباد میں تاریخی جلسہ عام کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لیے سندھ بھر سے پارٹی رہنما اور کارکنان کی بڑی تعداد وہاں پہنچی۔

یہ پڑھیں: بلاول بھٹو کی راہ میں آنے والا درخت کاٹ دیا گیا

دریں اثنا سانحہ کارساز کی دسویں برسی کے موقع پر حیدر آباد میں منعقد ہونے والے اس جلسے  کی تیاریوں کے دوران بلاول بھٹو کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ایک قدیم ترین درخت کو کاٹ دیا گیا، تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں جس پر عوام پی پی کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top