The news is by your side.

Advertisement

میں وزیراعظم ہوتا تو استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا، خورشید شاہ

سکھر: پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آج ڈالر کہیں نظر ہی نہیں آرہا، جو زیادہ قیمت دے رہا ہے اس کو ڈالر ملتا ہے، ان کو اچھی معیشت ملی جھوٹ بول بول کر تباہ کردی، میں وزیراعظم ہوتا تو استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف سب کی رپورٹیں آنا شروع ہوگئی ہیں، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف نے ایسی باتیں کیں جس سے خوف آنے لگا ہے، ہم نے حکومت کو وقت دیا کہ وہ سمت درست کرلے، 65 فیصد لوگ اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست پاکستان کے بارے میں سوچنے کو تیار نہیں ہے، ایک وزیر کہتے ہیں 6 ماہ میں معیشت ٹھیک نہ ہو تو میری تکہ بوٹی بنادو، حکومت کے دوسرے وزیر کہتے ہیں بھارت حملہ کرنے والا ہے۔

مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی کا نام تبدیل کرنے کے خلاف مزاحمت کریں گے: خورشید شاہ

پیپلزپارٹی رہنما نے کہا کہ 18ویں ترمیم نہیں بلکہ انہیں این ایف سی ایوارڈ سے مسئلہ ہے، 18ویں ترمیم میں صوبوں کو بااختیار بنایا گیا یہ ان سے ہضم نہیں ہوتا ہے، جو لوگ وفاق، اداروں کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت میں آنے والے اب کہتے ہیں کہ خزانے خالی تھے، کیا اب دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی ہیں، 2008 اور 2013 کا موازنا کیا جائے تو سب پتا چل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایگری کلچر گروتھ 2012 میں 9 فیصد پر چھوڑی تھی، نواز شریف حکومت نے ایگری کلچر گروتھ 5.8 پر چھوڑی تھی، ان کی حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں