site
stats
اہم ترین

پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نےگرفتاری دے دی

کراچی: پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے بوٹ بیسن تھانے پہنچ کر گرفتاری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق عدالت کی جانب سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا فیصلہ آیا تو عبدالقادر پٹیل کو گاڑی میں بیٹھتے اور انسداد دہشتگردی عدالت سے روانہ ہوتے دیکھا گیا، جس کے بعد پولیس نے ان کو مفرور قرار دے کر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کردیں۔

اسی دوران عبدالقادر پٹیل نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو میں فرار ہونے کی تردید کی اور بوٹ بیسن تھانے میں گرفتاری دینے کا اعلان کیا، عبدالقادر پٹیل درجنوں کارکنوں کے ساتھ گرفتاری دینے بوٹ بیسن تھانے پہنچے۔

اس سے کچھ دیر پہلےوزیراعلٰی قائم علی شاہ نے کہہ دیا تھا کہ پولیس قادرپٹیل کو گرفتارکرے گی، عبدالقادرپٹیل پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پرقومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں۔

بوٹ بیسن تھانے میں گرفتاری کے وقت عبدالقادر پٹیل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت سے بھاگا نہیں تھا، میں تاخیر سے عدالت پہنچا تو عدالت کا دروازہ بند تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق آج میری غیر حاضری ہے، عدالت پہنچنے میں 20، 25 منٹ دیرہوئی،میرے وکیل نے پیروی کی، عدالت سے سیدھا اپنے وکیل دوست کے پاس گیا کہ کیا کرنا چاہیے، انہوں نے بتایا کہ میں آرام سے چلتا ہوا آیا کہ وکلاء سے مشورہ کرنا ہوگامیں نے کچھ دیر گاڑی کا بھی انتظار کیا، گاڑی آئی تو وہاں سے چلا گیا،دوست کے گھر پہنچا تو پتا چلا کہ میرے فرار ہونے کی خبریں چل رہی ہیں۔

عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ رینجرز نے مجھے خط لکھا تولندن سے واپس آیا، عدالتوں سے بھاگنے والے نہیں سامنا کرنے والے ہیں، عدالت میں مجھے کسی نے نہیں روکا، ٹی وی اسکرین پر دیکھ کر علم ہوا کہ میں فرار ہوا۔

منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے لیے خودکوگرفتاری کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا، میں نے پارٹی میں کسی سے رابطہ نہیں کیا، میں نےکوئی جرم نہیں کیا میں کیس سے کیوں فرارہوں گا، ہمارےخلاف منفی باتیں ہو رہی ہیں تو کیوں چھپوں،مجھ پرالزام ہے کہ لیاری سے زخمی ملزم کو رکشے میں نارتھ ناظم آباد بھیجا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top