The news is by your side.

Advertisement

نیب گرفتاری کا خوف، پی پی رہنماء عدالت پہنچ گئے، ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف اور گرفتاری سے محفوظ رہنے کے لیے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق اسپیکر اسمبلی کی آمدن سے زائد اثاثوں میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے سندھ ہائی کورٹ میں عبوری ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کردی۔

رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی جبکہ اراکین سندھ اسمبلی تیمور تالپور، عبدالرزاق کو سندھ ہائی کورٹ کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی جبکہ عدالت نے نیب کو جام خان شورو کے خلاف کارروائی سے بھی روک دیا۔

مزید پڑھیں: زیر حراست اسپیکر کی سربراہی میں اجلاس، آغا سراج درانی کی نیب کے خلاف ہرزہ سرائی

رکن سندھ اسمبلی تیمور تالپور کا کہنا تھا کہ ’نیب نے اثاثوں کی تفصیلات کے ساتھ طلب کیا ہے لہذا گرفتاری سے روکا جائے‘۔

ایک اور درخواست کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی جس کے دوران جام خان شورو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میرے مؤکل کا حیدرآباد میں سی این جی اسٹیشن 8 ماہ پرانا ہے، نیب انہیں طلب کر کے ہراساں کررہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو کو جام خان شورو کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے چیئرمین نیب سمیت دیگر فریقین کو 14 مارچ کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین نیب آغا سراج درانی کی فیملی سے بدسلوکی کا نوٹس لیں: وزیر اعلیٰ سندھ

یاد رہے کہ نیب نے دو روز قبل اسلام آباد سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد اُن کے گھر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات بھی قبضے میں لی گئیں، بعد ازاں احتساب کورٹ نے اسپیکر اسمبلی کو 10 روز کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں