The news is by your side.

Advertisement

پی پی قیادت ابھی میچور نہیں کہ سیاست دانوں والے پروٹوکول فالو کر سکے: مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علماے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اجلاس میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نہیں بلایا جائے گا، پی پی قیادت ابھی میچور نہیں کہ اس پروٹوکول کو فالو کر سکے جو سیاست دان کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا 29 مئی کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس بلایا گیا ہے، جمعیت علماے اسلام اس اجلاس میں تجاویز دے گی، اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

فضل الرحمان نے کہا اجلاس میں صرف پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ہی بیٹھیں گی اور وہی فیصلہ کریں گی، پیپلز پارٹی اور اے این پی کی باتیں میڈیا میں پھیلائی گئیں، اس لیے پی ڈی ایم اجلاس میں ان کو نہیں بلایا جائے گا، ان دو جماعتوں کو سربراہی اجلاس میں بلانے کی کوئی تجویز نہیں، پی ڈی ایم قیادت دونوں جماعتوں سے متعلق فیصلہ کرے گی، پی پی قیادت ابھی میچور نہیں کہ وہ پروٹوکول فالو کر سکے جو سیاست دان کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا جمعیت کے مرکزی مجلس شوریٰ نے وقف املاک قانون کو مسترد کر دیا ہے، یہ قانون پاکستان کے آئین کے منافی ہے، قانون کو واپس لے کر اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے، مدارس کے نظم و ضبط کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی، جے یو آئی نے مدارس کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، جے یو آئی سے وابستہ مدرسے کا منتظم، رکن سرکاری بورڈ میں شامل نہیں ہوگا، ہم چاروں صوبوں میں مدارس کنونشن کا اعلان کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کا مؤقف ہے موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، عوام پر مسلط ناجائز حکومت ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں، 3 سالوں میں حکومت نے ملک کو معاشی لحاظ سے دیوالیہ کر دیا ہے، ملکی ہوں یا بین الاقوامی ادارے ان کی رپورٹس ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔

انھوں نے مزید کہا مرکزی مجلس شوریٰ کی نظر میں قیام امن کے دعوے بھی ہوا میں تحلیل ہوگئے، آئے روز دہشت گردی شہریوں کی زندگیاں نگل رہی ہے، ایک بار پھر فاٹا سے بدامنی کی فضا پورے ملک میں پھیل رہی ہے، قبیلوں کے درمیان قتل، مسلح لڑائیوں نےعام آدمی کا اطمینان چھین لیا، حکومت موجودہ صورت حال قابو میں لانے میں بے بس نظر آ رہی ہے۔

جے یو آئی سربراہ نے کہا ہمیں پاکستان میں امریکا کو ایئر بیس دینے کے فیصلے پر تشویش ہے، افغانستان سے نکل کر پاکستان میں امریکا کو اڈے دیے جا رہے ہیں، پاکستانی سرزمین اور فضا کے کسی کے خلاف استعمال کی اجازت نہ دی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں