اسلام آباد (12 فروری 2026): پاکستان پیپلز پارٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت قانون سازی میں ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے، اور چیئرمین ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو بچایا جا رہا ہے۔
پی پی ذرائع کے مطابق حکومت پیپلز پارٹی کے قانون سازی بارے تحفظات دور کرنے میں ناکام رہی ہے، اس لیے پی پی نے قانون سازی پر تحفظات ختم نہ ہونے تک حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
حکومت نے پی پی کو نیب اور ورچوئل ایسٹس ترمیمی بل کا مسودہ فراہم کر دیا ہے اور پیپلز پارٹی نے حکومت سے دونوں مجوزہ بلوں پر غور کے لیے مہلت مانگ لی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نیب اور ورچوئل ایسٹس سے متعلق بلوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات برقرار ہیں، دونوں بلوں کے حوالے پارٹی اپنی سفارشات حکومت کو دے گی، حکومت چاہتی ہے کہ ورچوئل ایسٹس بل 2 مارچ سے قبل منظور ہو جائے۔
بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کا انکشاف
حکومت ورچوئل ایسٹس آرڈینینس پر پارلیمنٹ سے دو بار توسیع لے چکی ہے، اب اس آرڈینینس کی مدت دو مارچ کو ختم ہو رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل چیئرمین ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے، یعنی حکومت قانون سازی میں ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو نیب ترمیمی بل کی متعدد شقوں پر اعتراضات ہیں۔
جہانگیر خان اے آر وائی نیوز اسلام آباد کے نمائندے ہیں۔ وہ پارلیمانی امور، صحت، کشمیر، جی بی اور پیپلز پارٹی سے متعلق خبریں رپورٹ کرتے ہیں۔


