پیپلز پارٹی کے رہنماء قاسم ضیاء کو رہا کردیا گیا -
The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی کے رہنماء قاسم ضیاء کو رہا کردیا گیا

لاہور:  پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قاسم ضیاء کو عدالتی احکامات پر ڈیڑھ ماہ بعد رہائی مل گئی، انکا کہنا ہے کہ میرے خلاف نہ کوئی درخواست تھی نہ گواہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

لاہور کیمپ جیل سے اپنی رہائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قاسم ضیاء کا کہنا تھا کہ مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے ایک ایسے مقدمے میں ملوث کیا گیا جس میں میرے خلاف نہ تو کسی نے درخواست دی تھی او نہ ہی کوئی گواہ کے طور پر سامنے آیا۔

انھوں نے کہا کہ جس کمپنی نے جعل سازی کی میں نہ تو اس کا ڈائریکٹر تھا اور نہ ہی میرا اس سے کوئی لینا دینا تھا، سیاسی انتقام کی اس کارروائی پر اپنے معاملے کو انصاف کے لیے خدا پر چھوڑتا ہوں، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نیب کے ساتھ پلی بارگیننگ کے معاملے پر تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد بات کروں گا۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ نےاسٹاک ایکسچینج فراڈ کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنماء قاسم ضیاء کی ضمانت منظور کرلی تھی۔

جسٹس محمود مقبول کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے فراڈ کیس میں قاسم ضیاء کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی، نیب نے بینچ کو بتایا کہ قاسم ضیاء کی پلی بارگین کی درخواست منظور ہوچکی ہے، اگر قاسم ضیاء نے خلاف ورزی کی تو انھیں دوبارہ گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

قاسم ضیاء کے وکیل علی ظفر نے مؤقف اختیار کیا کہ قاسم ضیاء کے خلاف نہ تو کوئی نیب ریفرنس ہے اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج ہے، نیب قاسم ضیاء کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہا ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد قاسم ضیاء کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ضمانت پر رہا کردیا۔

یاد رہے کہ نیب حکام نے قاسم ضیاء کو آٹھ اگست کو اسٹاک ایکسچینج میں آٹھ کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں