The news is by your side.

Advertisement

بے گناہ ہوں جرم ثابت ہوجائے تو پھانسی دے دی جائے، قاسم ضیاء

لاہور: احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنماء قاسم ضیاء کے جسمانی ریمانڈ میں چھ روز کی توسیع کردی، قاسم ضیاء کا کہنا ہے کہ بے گناہ ہوں جرم ثابت ہوجائے تو پھانسی دے دی جائے۔

احتساب عدالت کے جج خاقان بابر کی عدالت میں قاسم ضیاء کو پیش کیا گیا اور دس روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی، جس کی قاسم ضیاء کے وکلاء نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قاسم ضیاء کا مذکورہ اسٹاک ایکسچینج اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں وہ علی عثمان بروکرز کمپنی کے صرف آٹھ ماہ تک ڈائریکڑ رہے اور مشکوک سرگرمیوں پر انھوں نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔

وکلاء کا مؤقف تھا کہ نیب ابھی تک کوئی ریکارڈ پیش نہیں کرسکی، جس سے قاسم ضیاء کا مذکورہ فراڈ سے تعلق ثابت ہوتا ہو، وکلاء نے کہا کہ فراڈ کے ذمہ دار مذکورہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں، قاسم ضیاء صرف شیئرہولڈر تھے۔

اس موقع پر قاسم ضیاء نے کہا کہ وہ ساڑھے تین کروڑ روپے لوگوں کی ادائیگیوں کے لیے دے چکے ہیں، نیب ان پر بارگین کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، جنھوں نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی مہم پر ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں