The news is by your side.

Advertisement

لیاری میں پتھراؤ سازش تھی، پرامن الیکشن کو سبوتاژ کیا جارہا ہے، شیری رحمان

کراچی: پیپلزپارٹی کی رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شیری رحمان نے کہا ہے کہ لیاری میں پتھراؤ پری پلان سازش تھی، پرامن الیکشن کو سبوتاژ کیا جارہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پی پی رہنماؤں نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کیا، شیری رحمان نے کہا کہ لیاری میں لاکھوں لوگوں نے بلاول بھٹو کا استقبال کیا، حنیف منزل کے علاقے میں 25 سے 30 افراد نے پتھراؤ کیا، صرف پتھراؤ اور انتشار کی کوریج کی جاتی رہی ہے۔

شیری رحمان

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو لیاری میں پانی کے مسائل سے آگاہ ہیں، بلاول بھٹو نے ہر موڑ پر پانی کی قلت پر آواز اٹھائی، پانی کے مسائل کے لیے اقدامات ہمارے منشور کا حصہ ہیں، بلاول بھٹو بارہا کہتے رہے پانی کا مسئلہ حل کریں گے۔

شیری رحمان کے مطابق امن کا پیغام دینے کے لیے دوبارہ اسی راستے سے گئے، الیکشن میں لوگوں کو اپنا حق مانگنے کا پورا موقع ملتا ہے، یہ بلاول بھٹو کا پہلا الیکشن ہے سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے، بلاول کا قافلہ کل صبح پھر نکلے گا چاہتے ہیں ماحول پر امن رہے۔

مولا بخش چانڈیو

پیپلزپارٹی رہنما اور سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ نگراں حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، سیاسی جماعتوں کو برابر کا مواقع فراہم کرنا نگراں حکومت کی ذمہ داری ہے، کوئی وزیر بلاول بھٹو کی انتخابی ریلی پر پتھراؤ کا دفاع کیسے کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ذمہ دار وزیر کو نگراں کابینہ کا حصہ نہیں رہنا چاہئے، نگراں وزیر اطلاعات کا جانبدارانہ رویہ انتخابی عمل کو مشکوک بنادے گا۔

مراد علی شاہ

سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ آج بلاول بھٹو نے اپنی انتخابی مہم کی شروعات کی ہے، بلاول بھٹو نے مہم کی شروعات اپنے حلقے سے کی، لیاری میں جہاں بھی گئے والہانہ استقبال کیا گیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہزاروں لوگ قافلے میں تھے اور لاکھوں حلقے میں پہلے سے موجود تھے، بلاول کا قافلہ اچانک رک گیا تو معلوم ہوا کچھ لوگ پتھراؤ کررہے ہیں، اطلاع ملی احتجاج اور پتھراؤ پلاننگ کے تحت کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی شرپسندی کی حامی نہیں ہے، مشتعل افراد نے نبیل گبول کی گاڑی کا شیشہ توڑا کیا احتجاج ایسے ہوتا ہے، احتجاج سب کا حق ہے مگر آج پتھراؤ کرنے والے شرپسند عناصر تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں