The news is by your side.

Advertisement

میاں‌ صاحب کی پالیسی نے قوم کو منتشر کردیا، بلاول بھٹو

دہڑکی : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری جدوجہد پاکستان کے کچلے ہوئے محروم طبقے کے لیے ہے،پاکستان میں مسلمان اور غیر مسلمان کو یکساں حقوق حاصل ہیں کیوں کہ آج کا پاکستان ذوالفقار بھٹو کا پاکستان ہے آج کا پاکستان بے نظیر پاکستان ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو نے دہڑکی کے علاقے رہڑکی شریف میں عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ یہاں آنے کا مقصد آپ کے ساتھ دیوالی منانا تھا،کیوں کہ دیوالی جنگ کی ہار اور محبت کی جیت ہے،دیوالی روشنی کی جیت اور اندھیرے کی ہار ہے،مسلماں ہوں یا غیر مسلم پاکستان میں سب ایک ہیں۔

آج کا جلسہ بھی اسی کا مظہر ہے، آج کا پاکستان ذوالفقار بھٹو کا پاکستان ہے اور بے نظیر کا پاکستان ہے جہاں مسلمان اور غیر مسلم یکساں طور پر خوشیاں مناتے ہیں اور ایک دوسرے کی تہذیب اور روایات کا احترام کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ جدو جہد کی تاریخ رہی ہے،یہ جدو جہد پسے ہوئے لوگوں کے لیے ہے،کسان اور مزدوروں کے لیے ہے اور یہ جدوجہد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کی جد وجہد ہے اور اسلام کے صحیح اور درست تشخص کی بحالی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کوئٹہ بھی گیا جہاں وکلاء کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا پھر پولیس ٹریننگ سینٹر میں حملہ کیا گیا جس میں ہمارے 60 سے زائد نوجوان سپاہییوں کو شہید کیا گیا جب کہ اس اندوہناک واقعات پر ہماری حکومت صرف فوٹو سیشن کرارہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم واقعات یاد کرتے ہیں،لاشیں اُٹھاتے ہیں،برسیاں مناتے ہیں لیکن دہشت گرد کون ہیں اور ان کے سہولت کار کون ہیں یہ بھُلا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو چاچا عمران کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ چاچا عمران بہت ہوگیا، عوام نے آپ کو بہت برداشت کیا ، آپ روزانہ الزام عائد کرتے ہیں، آپ نے میری ماں اور مرحوم نانا پر بھی الزامات عائد کیے، آپ لوگوں کو اپنے والد اکرام اللہ نیازی سے بھی تو متعارف کراؤ،آپ نے مائنس ون کا مطالبہ کیا تو میں بھی کروں گا، چاچا عمران میری زبان نہ کھلوائیں۔

بلاول بھٹو نے وزیر اعظم پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب 2014 میں جمہوریت کو بچاتے ہوئے شیر بچ گیا تھا لیکن اب اگر اعتزاز احسن کے جمع کرائےگئے پانامہ بل کو منظور نہیں گیا تو شیر بچ نہیں سکے گا ہم حکومت نہیں چلنے دیں گے۔

انہوں نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں تخت رائے ونڈ کی بادشاہت ہے،اور بادشاہ کو پانامہ لیکس کا جواب دینا ہوگا، اگر جوڈیشل کمیشن نہیں چلا تو میاں صاحب ہم آپ کی حکومت بھی نہیں چلنے دیں گے۔

بلاول بھٹو کے خطاب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صوبائی صدر نثار کھوڑو،سابق وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی خطاب کیا جب کہ دہڑکی کی مقامی قیادت نے عوام کی جانب سے بلاول بھٹو کو سوینیئر بھی پیش کیا۔

قبل ازیں رحیم یار خان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’وزیراعظم نوازشریف نے ہمارے چار مطالبات تسلیم نہیں کیے تو 2017 میں انتخابات ہوں گے‘‘۔

اس موقع پر بلاول بھٹو نے دعوی کیا کہ چاروں صوبوں میں اگلی حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہو گی ہماری پارٹی جمہوری احتساب چاہتی ہے تاہم اگر ہمارے چار مطالبات تسلیم کیے تو 2018ءتک نوازشریف حکومت قائم نہیں رکھ سکیں گے ۔

بلدیاتی نمائندوں سے خطاب میں بلاول بھٹوزرداری نے سوال کیا کہ جب سے بی بی کا بیٹا آیا ہے تب سے تبدیلی آئی یا نہیں؟ ۔انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ ہم سب مل کر کام کریں گے اور ہم مل کر پارٹی میں بھی تبدیلی لےکرآئیں گے۔

پیپلزپارٹی کے سربراہ کا کہناتھاکہ جب تک کسان،محنت کش،مزدور،اور خواتین بے ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر کے بیٹے کے ساتھ ہیں، پیپلز پارٹی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہراسکتی۔

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ آج ڈہرکی کا جلسہ تاریخی ہوگا جہاں میں نئے پاکستان کی لائحہ عمل دوں گا۔

اس سے قبل  پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سےضلع گھوٹکی کے علاقے ڈہرکی میں  وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وزیر ایکسائزمکیش کمار چاولہ کےہمراہ جلسہ گاہ میں تمام انتظامات کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہناتھا کہ بلافیلڈ میں کھیلے گا،شیرجنگل میں چلا جائےگا۔انہوں نے مزید کہا کہ تیر سے شیر اور بلے کا شکارکریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہناتھا سانحہ کوئٹہ کے باعث 30اکتوبر کی تقریب منسوخ کی گئی تھی،انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو کے چار مطالبات پر عمل نہ ہوا تواحتجاج کریں گے۔

سابق صدر پرویز مشرف سےمتعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہناتھا کہ ’’مشرف کے ساتھ وہ حشر نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا‘‘۔

خیال رہےکہ  ڈہرکی دربارگراؤنڈ کی جلسہ گاہ میں لوگو ں کے بیٹھنے کے لیے چالیس ہزارکرسیاں لگائی گئیں ہیں اور چالیس فٹ چوڑا اسٹیج بنایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:عمران خان نے ہار مان لی لیکن ہم اب بھی میدان میں ہیں،بلاول بھٹو

یاد رہے کہ گزشتہ روزبلاول بھٹو زرداری نے رحیم یار خان کے علاقے جمال الدین والی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ عمران خان شاید ہار مان گئے ہیں لیکن پیپلز پارٹی ابھی بھی میدان میں ہے،ہم بتائیں گے کہ اصلی دھرنا کیسے دیتے ہیں۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جمہوری احتساب ہوگا تو وزیراعظم پکڑے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ عوام کی حمایت اور تعاون جاری رہاتو ہم سب مل کر 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بآسانی فتح حاصل کرلیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں