The news is by your side.

Advertisement

جعلی اور بوگس کالز کرنے والے ہوشیار !! نیا قانون آگیا

کراچی / لاہور : شہری اپنی تفریح اور مزاح کیلئے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں حتیٰ کہ پولیس کی ہیلپ لائن ون فائیو پر  جھوٹی کالیں کرکے ادارے کے اہلکاروں کا وقت بھی ضائع کرتے ہیں لیکن اب ایسا نہیں ہوسکے گا، ایسے عناصر کے گرد پولیس نے گھیرا تنگ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق پولیس کے جاری کردہ سال 2020 کےاعدادو شمار میں بتایا گیا ہے کہ 8 لاکھ کے قریب شہریوں کی جانب سے ہیلپ لائن15پر جعلی اور بوگس کالیں کی گئیں۔

پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں کیونکہ ان کے مذاق کے نتیجے میں کوئی بڑی واردات کا واقعہ یا ملزمان ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے کرتے ہوئے چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سٹی اتھارٹی ڈی آئی جی کامران خان نے بتایا کہ15 پر کی جانے والی کالز میں سے 90فیصد جعلی جبکہ صرف دس فیصد اصلی ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب مسلسل نمبروں سے آنے والی کالز کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس حوالے سے جعلی کال کرنے والوں کی شناخت کرکے ان کے نمبرز کو بلاک کیا جاسکتا ہے اور اس پرینک کال کے چارچز بھی لیے جانے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سروس میں حتی الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ مصیبت زدہ افراد کی فوری مدد کی جائے مگر اس طرح کی جعلی کالز کی وجہ سے کام کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

علاوہ ازیں ترجمان کراچی پولیس کے مطابق گزشتہ سال میں کل 35 لاکھ فون کالز موصول ہوئیں جن پر27 لاکھ265 جرائم کے واقعات رپورٹ ہوئے جن کے نتیجے میں 476 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب شہریوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا  ہےکہ اس طرح کا مذاق کہ کسی طرح بھی مناسب نہیں، عوام پولیس سے مذاق کرکے اس کے وقت کا ضیاع کرے گی اور اگر جواب میں پولیس نے کوئی مذاق کیا تو ان لوگوں کو لینے کے دینے پڑجائیں گے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں