منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے نئی شرط عائد

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : سندھ حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے نئی شرط عائد کردی، کسی بھی امیدوار کو ڈرائیونگ لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

سندھ حکومت نے صوبے میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والے تمام افراد کے لیے پری-لائسنس ڈرائیونگ ٹریننگ لازمی قرار دے دی۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی بورڈ کے 50 ویں اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ بھر میں ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی ڈرائیور ٹریننگ اسکولز قائم کیے جائیں گے اور بغیر تربیت کے کسی بھی امیدوار کو  لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔

حکومت کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ سال میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت اور لائسنس فراہم کیے جائیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں سینئر وزرا سردار شاہ، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے مشیر بابل بھیو، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ آغا واصف، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، سکھر؛ اور گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ کمرشل ایجوکیشن، نوشہرو، خصوصی ڈرائیور ٹریننگ اور پائیدار جنگلاتی سیاحت کے امور زیر بحث آئے۔

روڈ سیفٹی، پیشہ ورانہ ڈرائیونگ معیار اور بیرون ملک روزگار کے مواقع بہتر بنانے کیلئے ایک اہم اقدام کے تحت بورڈ نے پی پی پی فریم ورک کے تحت سندھ بھر میں ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (ایچ ٹی وی) اور لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل (ایل ٹی وی) ڈرائیور ٹریننگ اسکول قائم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔ موٹر وہیکلز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی درخواست دہندگان کیلئے پری لائسنس ٹریننگ لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ لائسنسنگ اتھارٹیز صرف مستند اداروں سے تصدیق شدہ پری لائسنس ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد ہی درخواستوں پر کارروائی کرسکیں گی۔

یہ منصوبہ عالمی سطح خاص طور پر یورپ، آسٹریلیا، چین، ترکی اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک میں ڈرائیورز کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے۔ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سیکٹر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 10 سے 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 41 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ سال 2025 میں پاکستان نے باضابطہ طور پر ایک لاکھ 63 ہزار ڈرائیورز بیرون ملک بھیجے جبکہ مزید تقریباً 30 ہزار غیر رسمی طور پر بیرون ملک گئے تاہم سندھ کا حصہ صرف دو فیصد رہا۔

ٹریننگ مراکز ابتدائی طور پر سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (اسٹیوٹا) کے چار اداروں میں قائم کیے جائیں گے، جن میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی سائٹ کراچی، گورنمنٹ پولی ٹیکنک کالج دادو، گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سکھر اور گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس اینڈ کمرشل ایجوکیشن نوشہرو فیروز شامل ہیں۔ زیادہ طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی میں بڑے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔ ہر مرکز میں ملٹی میڈیا کلاس رومز، کمپیوٹرائزڈ تھیوری لیبز، مخصوص ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی سیمولیٹرز، پریکٹس یارڈ، آن روڈ ٹریننگ، آن سائٹ لائسنسنگ ڈیسک، معاون ورکشاپس اور حفاظتی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پروگرام کے تحت پانچ سال میں ایک لاکھ ڈرائیورز کو تربیت اور لائسنس جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جن میں 62 ہزار 500 ایل ٹی وی اور 37 ہزار 500 ایچ ٹی وی ڈرائیور شامل ہوں گے جبکہ تقریباً نصف کراچی سے ہوں گے۔ قانونی اور ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل کیلئے محکمہ داخلہ، ٹریفک پولیس اور لائسنسنگ اتھارٹیز کے تعاون سے ٹرانزیکشن ایڈوائزری کنسورشیم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ بورڈ نے منصوبے کے تصور کی منظوری دیتے ہوئے تفصیلی فزیبلٹی اسٹڈی کیلئے ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی تقرری کی بھی توثیق کی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں