The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟ احتیاطی تدابیر اور ہدایات

کراچی : پاکستان میں کروناوائرس کی تصدیق کے بعد ماہرین صحت نے وائرس سےبچنےکی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کردی ہے اور کہا ، اس وائرس کےعلاج کیلئے کوئی خاص گولی یادوائی نہیں ، اگربخارہےتوپیناڈول کھائیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کروناوائرس کی تصدیق کےبعدلوگوں میں شدیدتشویش کی لہر دوڑگئی، ماہرین صحت کا کہنا ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ، وائرس سےبچنےکی شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

کرونا وائرس ایک ڈروپلیٹ انفیکشن ہے، یعنی اس سے متاثرہ شخص اگر کھانسے یا چھینکے اور اسکے منہ سے نکلنے والے ذرے یا بوندیں آپ تک پہنچیں تو یہ وائرس آپ کو متاثر کرسکتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں ہے، تاہم احتیاط کے ذریعے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر


اگر کوئی شخص کھانسی یابخار مبتلا ہوں تو متاثرہ شخص لوگوں سےایک میٹر کا فاصلہ رکھے۔

کھانسی یاچھینک آنےکی صورت میں منہ، ناک کوٹشو یا کپڑےسےڈھانپے اور ہاتھ کااستعمال نہ کرے۔

ٹشو استعمال کے بعد ٹشو کو ضائع کردیں اور آلودہ ہاتھ سے آنکھ، ناک یا منہ کونہ چھوئیں۔

بیماری کی صورت میں گلےملنے یا ہاتھ ملانے سے گریز کریں جبکہ ہاتھ صابن اورصاف پانی سےدھوئیں۔

بخار،کھانسی اورسانس لینےمیں دشواری کی صورت میں فوی طور پر ڈاکٹرسے رجوع کریں۔

شہریوں کو ہدایات 


دوسری جانب ڈاکٹرفیصل کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے کہا کہ لوگوں کاکام ہےعلامات ظاہرہونے پر گھبرائیں نہیں، ضعیف، دمے کے مریض، پھیپڑوں کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں، حفاظتی تدابیر میں ہاتھ صاف رکھنا بہت ضروری ہے۔.

ڈاکٹرفیصل کا کہنا تھا کہ باہرجائیں تو منہ ،ناک اور آنکھ کو محفوظ رکھیں، عام لوگوں کو ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے ، کروناوائرس کی رینج ایک کلومیٹر تک ہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وائرس والے علاقے کا سفر کرنیوالے شہری گھرمیں ہی رہیں، کروناوائرس کسی کو لگتا ہے تو 14 دن میں سامنے آجاتا ہے، اس وائرس کے علاج کیلئے کوئی خاص گولی یادوائی نہیں ، آپ کواگر بخار ہے تو پیناڈول کھائیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ کچھ ادویات پرتحقیق ضرورہورہی ہےمگرنتائج ابھی نہیں آئے، کرونا وائرس گرمیوں کےموسم میں کم ہوجائےگا، شہری اینٹی بائیوٹک کا استعمال نہ کریں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں