ماضی کے دریچوں سے مستقبل کی جھلک -
The news is by your side.

Advertisement

ماضی کے دریچوں سے مستقبل کی جھلک

آج جب ہم اکیسویں صدی کے 18 ویں سال میں بیٹھ کر مستقبل کا سوچتے ہیں تو فضا میں اڑتی گاڑیاں، مریخ پر رہائش اور نہ جانے کیا کیا ہمارےذہن میں آتا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ماضی میں لوگ مستقبل کو کیسا تصور کرتے ہوں گے؟

سنہ 1900 میں ایک جرمن چاکلیٹ کمپنی نے اکیسویں صدی کے طرز زندگی کے بارے میں مبنی کچھ پوسٹ کارڈز شائع کیے تھے کہ آج کا دور ممکنہ طور پر ایسا ہوگا۔

اس وقت ان پوسٹ کارڈز کو بہت پسند کیا گیا تھا۔ ان پوسٹ کارڈز میں کئی ایسی چیزیں دکھائی گئیں تھی جو آج کے دور میں حقیقت بن چکی ہیں جبکہ کچھ واقعی مستقبل میں ممکن نظر آتی ہیں۔

آئیں ہم بھی ان خوبصورت پوسٹ کارڈز سے لطف اندوز ہوں۔


موسم کو کنٹرول کرنے والی مشین


زمین اور پانی دونوں پر چلنے والی ریل


سیاحتی سب میرین


شہر کو بارش سے محفوظ رکھنے والی ڈھال


ذاتی اڑن طیارے


قطب شمالی پر سیاحت


غباروں کے ذریعے پانی پر چہل قدمی


اڑنے والی ذاتی مشین


پہیوں پر بنے شہر کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جارہا ہے

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں