The news is by your side.

Advertisement

کیا مستقبل میں مُردوں سے بات کرنا ممکن ہوگا؟

ٹیکنالوجی کی حالیہ رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں ہم کہاں ہوں گے، ممکن ہے کہ ہم مرنے والوں سے گفتگو کرسکیں اور ان کا ایک دھندلا سا خاکہ بھی دیکھ سکیں۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق کینسر کا پتہ لگانے والے بیت الخلا، آنکھوں میں نصب کمپیوٹر اور روحوں کی لائبریری جہاں ہم اپنے مرحومین کو دیکھ سکیں گے، یہ چند دماغ کو حیران کرنے والی ایجادات اور پیشرفت ہیں جو ممکنہ طور پر ہمارے بچوں اور پوتے پوتیوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن سکتی ہیں۔

دلچسپ سائنسی دستاویزی فلم 2077 – 10 سیکنڈز ٹو دی فیوچر، میوٹیشن میں سال 2077 کے حوالے سے کچھ انتہائی عجیب اور حیرت انگیز پیش گوئیوں پر ایک نظر ڈالی گئی ہے۔

اس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سہ 2077 تک سائنسی علم میں آج کے دور کے مقابلے میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوگا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نک بوسٹروم کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت تمام شعبوں کو نئی ادویات کی دریافت اور بیماری کے علاج سے لے کر معاشی اشیا کی پیداوار کے چیلنج کو حل کرنے میں کردار ادا کرے گی، تاکہ لوگوں کو غربت میں زندگی گزارنے کی ضرورت نہ پڑے۔

نیویارک کے سٹی کالج کے نظریاتی طبیعیات دانمیچیو کاکو کا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک روبوٹ بندروں کی طرح ہوشیار ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں ان کے دماغوں میں ایک چپ رکھنی چاہیئے تاکہ اگر وہ قاتل بن جائیں تو انہیں بند کیا جا سکے۔

ایک اور پیشگوئی روحوں کی لائبریری کے حوالے سے کی گئی ہے جہاں لوگ مرنے والوں کے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔

ڈاکٹر کاکو نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب آپ لائبریری جاتے ہیں اور ونسٹن چرچل کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں، تو آج آپ ونسٹن چرچل کے بارے میں ایک کتاب نکالتے ہیں۔

مستقبل میں آپ ونسٹن چرچل سے بات کریں گے، آپ لائبریری جائیں گے اور ایک ہولو گرافک تصویر سامنے آئے گی اور ہولو گرام کے دوسری طرف والا شخص ونسٹن چرچل کی طرح لگتا ہوگا، اس کی طرح بات کرتا ہوگا، اس کے تمام طرز عمل، اس کی یادیں، اس کی تمام تقریریں سب کچھ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے پوتے نواسے لائبریری جائیں گے اور آپ سے بات کریں گے۔

وہ اندازہ لگائیں گے کہ آپ کون ہیں، آپ ڈیجیٹل فنگر پرنٹ چھوڑیں گے، آپ کی تمام عادات، آپ کی تمام یادیں، آپ کے احساسات کا نقشہ چھوڑیں گے اور آپ اپنی اولاد کے ساتھ ایک دلچسپ بات چیت کرنے کے قابل ہو جائیں گے چاہے آپ طویل عرصے سے موجود ہی کیوں نہ ہوں،

ڈاکٹر کاکو نے کہا کہ پورے دماغ کی ڈیجیٹلائزیشن جسے ہیومن کنیکٹوم پروجیکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، ڈیجیٹل لافانیت کا باعث بن سکتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں