The news is by your side.

Advertisement

انتہا پسند شخص کا مسلمان حاملہ خاتون پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل

سڈنی : ترقی پسند ممالک میں نسلی امتیازاورتعصب بڑھنےلگا، انتہا پسند شخص کی حجاب پہنی مسلمان حاملہ خاتون پر حملہ کی ویڈیو وائرل ہوگئی ، جس میں سفاک شخص نے مسلم خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے سر کو اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔

تفصیلات کےمطابق آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ایک کیفے میں انتہا پسند شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت میں آپے سے باہر ہوگیا اور حاملہ مسلم خاتون پر بدترین تشدد کیا۔

سفاک آسٹریلوی شخص کی جانب سے مسلم خاتون پر کیے جانے والے بدترین تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد ویڈیو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد نے اس شخص کے فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفاک شخص حاملہ مسلم خاتون کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے اور اس کے سر کو اپنے پیروں تلے روند رہا ہے، اس موقع پر کیفے میں موجود لوگوں نے مداخلت کرکے خاتون کی اس وحشی شخص سے جان بچائی۔

واقعے کے فوری بعد مقامی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حملہ آور کو حراست میں لے لیا، جبکہ تشدد کا شکار زخمی خاتون کو اسپتال منتقل کردیا گیا، متاثرہ خاتون نے اسپتال میں پولیس کو بیان دیا ہے کہ حملہ آور شخص مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جذبات کا اظہار کر رہا تھا۔

پولیس نے حملہ آور کیخلاف مقدمہ درج کرلیا اور ضمانت مسترد کردی ، آسٹریلوی پولیس کا کہناہے واقعے کی تحقیقات جاری ہے۔

یاد رہے رواں ماہ میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے دنیا بھر کی طرح فرانس میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے خلاف شدید احتجاج کیا، اسلاموفوبیا کے خلاف ہونے والے 2 کلومیٹر طویل احتجاج میں ہر رنگ و نسل و مذہب کے افراد نے شرکت کی اور متعصبانہ اور مسلم مخالف رویوں کے خلاف نعرے بازی کی۔

مزید پڑھیں : باحجاب خواتین کو قتل کا خدشہ، وجہ کیا ہے؟

مظاہرے میں شریک 40 فیصد سے زائد مسلمانوں کا کہنا تھا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ فرانس میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے، اسلام فرانس کا دوسرا بڑا مذہب ہے جبکہ مسلمان یورپ کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔

اس سے قبل برطانیہ میں حجاب پہننے والی مسلم خواتین کو خدشہ ہے کہ اسلامو فوبیا بڑھنے کی وجہ سے انہیں بھی سابقہ برطانوی رکن پارلیمنٹ جو کوکس کی طرح سڑک پر قتل کیا جاسکتا ہے، خاتون کا کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ افراد زیادہ تر سفید فام ہیں، وہ غصہ میں ہیں اور اپنا غصہ مسلم خواتین پر اتارنا چاہتے ہیں، بطور مسلمان خاتون کے لیے یہاں رہنا آج کل آسان نہیں، خصوصا اس وقت جب کوئی آپ کو داعش جیسی تنظیم سے تشبیہ دیتا ہو۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں