The news is by your side.

Advertisement

بد زبانی ہماری قومی پستی کا ثبوت

ہر قوم کا طرزِ کلام اس کی اخلاقی حالت کا پتہ دیتا ہے۔ اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان روئے زمین کی تمام قوموں میں سب سے نیچے نظر آئے گا۔ طرزِ کلام کی متانت اور شستگی، قومی عظمت اور اخلاقی پاکیزگی ظاہر کرتی ہے۔ اور بد زبانی اخلاقی سیاہی اور قومی پستی کا پختہ ثبوت ہے۔

جتنے گندے الفاظ ہماری زبان سے نکلتے ہیں، شاید ہی کسی مہذب قوم کی زبان سے نکلتے ہوں۔ ہماری زبان سے گالیاں ایسی بے تکلفی سے نکلتی ہیں گویا ان کا زبان پر آنا ایک ضروری امر ہے۔

ہم بات بات پر گالیاں بکتے ہیں اور ہماری گالیاں ساری دنیا کی گالیوں سے نرالی، مکروہ اور ناپاک ہوتی ہیں۔ ہمیں ہیں کہ ایک دوسرے کے منہ سے ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے متعلق گندہ ترین گالیاں سنتے ہیں اور پینترے بدل کر رہ جاتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہماری کچھ تحقیر ہوئی ہے۔ جن گالیوں کا جواب کسی دوسری قوم کا آدمی شمشیر اور پستول سے دے گا، اس سے بدرجہا مکروہ اور نفرت انگیز گالیاں ہم اس کان سے سن کر اس کان اڑا دیتے ہیں۔ ہماری گالیوں سے ماں، بہن، بیوی، بھائی غرض کوئی نہیں بچتا۔ ہم اپنی ناپاک زبانوں سے ان پاک رشتوں کو ناپاک کرتے رہتے ہیں۔

یوں تو گالیاں بکنا ہمارا سنگار ہے۔ مگر بالخصوص عالم غیظ و غضب میں ہماری زبان جولانی پر ہوتی ہے۔ غصہ کی گھٹا سر پر منڈلائی اور منہ سے گالیاں موسلا دھار مینہ کی طرح برسنے لگتی ہیں۔ اپنے رقیب یا مخالف کو دور سے کھڑے صلواتیں سنا رہے ہیں۔ آستینیں چڑھاتے ہیں، پینترے بدلتے ہیں، آنکھیں لال پیلی کرتے ہیں اور سارا جوش چند ناپاک گالیوں پر ختم ہو جاتا ہے۔ حریف کے ہَفتاد پشت کو زبانی نجاست میں لت پت کر دیتے ہیں۔ علیٰ ہذا فریق مخالف بھی دور ہی سے کھڑا ہماری گالیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ اسی طرح گھنٹوں تک گالی گلوچ کے بعد ہم دھیمے پڑ جاتے ہیں اور ہمارا غصہ پانی ہو جاتا ہے۔

اس سے بڑھ کر ہمارے قومی کمینہ پن اور نامردی کا ثبوت نہیں مل سکتا کہ ان گالیوں کو سن کر ہمارے خون میں جوش آجانا چاہئے۔ ان گالیوں کو ہم دودھ کی طرح پی جاتے ہیں اور پھر اکڑ کر چلتے ہیں۔ گویا ہمارے اوپر پھولوں کی برکھا ہوئی ہے۔ یہ بھی قومی زوال کی ایک برکت ہے۔ قومی پستی دلوں کی عزت اور خود داری کا احساس مٹاکر آدمیوں کو بے غیرت اور بے شرم بنا دیتی ہے۔ جب احساس کی طاقت زائل ہوگئی تو خون میں جوش کہاں سے آئے۔ جو کچھ تھوڑا بہت باسی کڑھی کا سا ابال آتا ہے، اس کا زور زبان سے چند غلیظ الفاظ نکلوا دینے ہی پر ختم ہو جاتا ہے۔

(اردو اور ہندی زبانوں کے معروف افسانہ اور ناول نگار پریم چند کے مضمون "گالیاں” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں