لاہور (24 مارچ 2026): پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بڑے فیصلوں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
ایران جنگ کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم شروع کی گئی، جس کے بعد اب ممکنہ توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی بڑے فیصلوں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں محکمہ توانائی پنجاب نے حکومت کو نئی اور اہم سفارشات ارسال کر دی ہیں۔
محکمہ توانائی نے ان سفارشات میں پنجاب حکومت کو وفاق کی طرز پر پالیسی مرتب کرتے ہوئے مارکیٹس کے اوقات کار مزید محدود کرنے اور تعلیمی اداروں کی چھٹیاں 15 اپریل تک بڑھانے اور تعلیمی اداروں میں ہائبرڈ نظام تعلیم کو اختیار کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کی منصفانہ تقسیم کیلیے کوپن یا ڈیجیٹل سسٹم متعارف کرنے اور مخصوص دنوں میں محدود گاڑیوں کو ایندھن فراہم کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
محکمہ توانائی نے نجی اداروں میں ورک فرام ہوم کیلیے سخت ہدایات کی سفارش کرتے ہوئے غیر ضروری تقریبات پر مکمل پابندی اور میٹرو بس سروس بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
محکمہ توانائی کی سفارشات میں ایل ای ڈی بل بورڈز اور آرائشی لائٹس بند کرنے کا پلان بھی شامل ہے جب کہ رات 10 بجےکےبعد اسٹریٹ لائٹس متبادل موڈ پر چلیں گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


