The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ میں شو آف ہینڈز: حکومت نے ریفرنس دائر کردیا

اسلام آباد: سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز سے متعلق بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جہاں حکومت نے صدر مملکت نے آرٹیکل186کےتحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوایا، ریفرنس میں بغیر الیکشن ایکٹ 2017کےسیکشن 122 سکس میں ترمیم پر رائے مانگی گئی ہے، ریفرنس اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کیاگیا۔

ریفرنس میں حکومت نے موقف اپنایا ہے کہ خفیہ بیلٹ انتخاب صدر، اسپیکر، چیئرمین وڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےلیےہوتاہے، سینیٹ الیکشن خفیہ بیلٹ سےہوگا یا اوپن بیلٹ؟یہ عوامی مفاد کا سوال ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواست میں حکومت کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتوں، قانون دانوں، سول سوسائٹی کا موقف رہا کہ انتخاب شفاف ہوناچاہیے، اکثریت کا یہ موقف بھی ہے سینیٹ الیکشن میں ووٹوں کی خریداری عام ہے، لہذا سینیٹ الیکشن ووٹوں کی خریداری کی برائی سےپاک اور شفاف ہونا چاہیے، اوپن بیلٹ سے ووٹوں کی خریداری روکنا بڑی سیاسی جماعتوں کا منشور رہا ہے۔

اس سے قبل ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کی وزیرِاعظم کی تجویز کی منظوری دیتے ہوئے ریفرنس پر دستخط کئے تھے۔

اس سے قبل پندرہ دسمبر کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات کیلئےسپریم کورٹ سے رجوع کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا اور حکومت آئین کے تحت سپریم کورٹ سے رائےطلب کرےگی، حکومت سپریم کورٹ فیصلےکی روشنی میں ترمیم کےبغیر الیکشن کروا سکےگی، آئینی ترمیم کے بغیر الیکشن شوآف ہینڈکےذریعےفروری میں منعقد ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں مبینہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے شو آف ہینڈ کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے سینیٹ کےقبل ازوقت انتخاب کی صورت میں عدالت جانےکااعلان کیا ہے رہنما رانا ثنااللہ نے کہا کہ 11فروری سےقبل انتخابی شیڈول دیاجاتاہےتویہ غیرآئینی ہوگا۔

سترہ دسمبر کو اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید نے کہا تھا کہ شوآف ہینڈکےذریعے سینیٹ انتخابات ممکن ہی نہیں، حکومت نے کبھی نہیں کہا کہ سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ سے کرائے جائیں گے۔

کونسے سینیٹرز ریٹائر ہو رہے ہیں؟

سینیٹ کے 52 ارکان 12 مارچ کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے، حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہوں گے۔

پیپلزپارٹی کے رحمان ملک، رضا ربانی، فاروق ایچ نائک، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جب کہ عثمان کاکڑ،عبدالغفور حیدری کی مدت بھی پوری ہو رہی ہے، سجاد طوری، مومن آفریدی، تاج آفریدی، اورنگزیب اورکزی ریٹائرڈ بھی ہوجائیں گے۔

ن لیگ کے پرویزرشید، راجا ظفرلحق، مشاہداللہ خان، جاوید عباسی، کلثوم پروین بھی اپنی مدت پوری کر رہے ہیں، سینیٹ میں پی ٹی آئی کے 6 ارکان ریٹائرڈ ہو رہے ہیں جن میں محسن عزیز، شبلی فراز، نعمان وزیر، مہر تاج، روغانی اور ذیشان خانزادہ شامل ہیں، ستارہ ایاز، طاہربزنجو، سرفراز بگٹی کے بھی 6سال مکمل ہوجائیں گے جب کہ میر کبیر شاہی اور اشوک کمار بھی ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں