The news is by your side.

Advertisement

صدر کا خطاب، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر، اپوزیشن کا منفی رویہ

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے خطاب کے دوران حسب سابق اپوزیشن کی جانب سے منفی رویے کا مظاہرہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ سے صدر مملکت خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر کرنے لگے تو اپوزیشن نے منفی رویہ اپناتے ہوئے شور شرابا شروع کر دیا۔

صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور تقریر اور ایجنڈے کی کاپیاں ہوا میں اڑا دیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف قومی ترانے کے بعد ایوان میں آئے۔

صدر مملکت عارف علوی کو اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ آپ شور بھی مچاتے رہیں لیکن بات بھی سنتے رہیں تو اچھا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ شور شرابا تو جاری رہے گا لیکن ملک کے مفاد کے لیے فوری طور پر قوانین منظور اور عمل درآمد کرائیں۔

تازہ ترین:  مسئلہ کشمیر، عالمی برادری کی خاموشی عالمی امن کے لیے خطرے کا باعث ہوگی: صدر پاکستان

صدر مملکت کے خطاب کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی بھی ہوئی، اجلاس میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن اراکین گتھم گتھا ہو گئے، ایک دوسرے کو دھکے دیے۔ پرویز خٹک، عبد القادر پٹیل نے پی پی کے آغا رفیع اللہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔

قبل ازیں، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا تو ایوان میں وزیر اعظم عمران خان بھی موجود تھے، اجلاس میں پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان بھی شریک ہوئے، جب کہ مہمان گیلری میں گورنرز اور وزرائے اعلیٰ موجود تھے۔

اجلاس شروع ہوا تو آصف زرداری، بلاول بھٹو اور شہباز شریف اجلاس میں شریک نہیں تھے، تاہم شہباز شریف بعد میں ایوان میں آ گئے، اپوزیشن کے گرفتار اراکین کی نشستوں پر ان کی تصاویر رکھ دی گئیں۔

جن اراکین کی نشستوں پر تصاویر رکھی گئیں ان میں رانا ثناللہ، آصف زرداری اور شاہد خاقان عباسی شامل تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں