The news is by your side.

Advertisement

صدر مملکت نے انسداد عصمت دری آرڈیننس2020کی منظوری دے دی

اسلام آباد: ملک میں جنسی زیادتی کی سرکوبی کے لئے صدر عارف علوی نے انسداد عصمت دری آرڈیننس دو ہزار بیس کی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق خواتین، بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے صدر مملکت عارف علوی نےانسداد عصمت دری آرڈیننس2020کی منظوری دے دی ہے۔

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے مقدمات کوجلد نمٹانےکیلئےخصوصی عدالتوں کاقیام عمل میں لایاجائیگا، خصوصی عدالتیں چار ماہ کےاندر جنسی زیادتی کےمقدمات نمٹائیں گی۔

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم عمران خان انسدادِ جنسی زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل 06 گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکو لیگل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ قومی شناختی کارڈ بنانے والے ادارے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

آرڈیننس کے تحت جنسی زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ اکیس نومبر کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قانونی ٹیم کا اجلاس ہوا تھا، فروغ نسیم، شیریں مزاری و دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی تھی، اجلاس میں زیادتی کے واقعات کی روک تھام سے متعلق قانون سازی پر غور کیا گیا اور وزیراعظم کو قانون سازی میں پیشرفت پر بریفنگ دی گئی جبکہ زیادتی کےمجرمان کوسخت سزاکےطریقہ کار اور گواہوں کےتحفظ کے طریقہ کارسےمتعلق آگاہی دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے قانون سازی کیلئےمزید وقت دینےسےانکار کرتے ہوئے کہا زیادتی کے واقعات کی روک تھام ہرصورت یقینی بنانی ہوگی، سنگین نوعیت کےمعاملے پر ایک لمحے کی تاخیر بھی نقصان دہ ہے، دن رات کام کریں لیکن معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں اور فاسٹ ٹریک مقدمات کے ذریعےانصاف فراہمی یقینی بنائی جائے، وفاقی حکومت نے زیادتی کے مجرموں کوسزا کیلئےآرڈیننس لانے کافیصلہ کرتے ہوئے زیادتی کے شکار بچوں کی شناخت چھپانے سمیت مستقبل محفوظ بنانے کا واضح پلان لانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

چوبیس نومبر کو ایک بیان میں وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ دنیا میں کئی ممالک میں جنسی مجرموں کونامرد بنائےجانےکے قوانین ہیں کیمیکل کیسٹریشن کچھ کیسز میں مخصوص مدت کیلئے یا زندگی بھر کیلئے ہوسکےگی۔

چھبیس نومبر کو وزارت قانون نے انسداد جنسی زیادتی قانون کے نکات جاری کئے تھے، جن کے مطابق مجرمان کو منتخب کردہ طریقے سے نامرد کر کے انہیں رہا کیا جائے گا۔وزارت قانون کی جانب سے جاری ہونے والے نکات میں بتایا گیا تھا کہ مجرمان کوان کی رضامندی سےکیمیائی طریقہ سے ہی نامرد کیا جائے گا، سزا کا یہ طریقہ اُن کی بہتری کی جانب اہم قدم ہوگا۔

وزارت قانون کے مطابق زیادتی کے مقدمات کا فوری اندراج کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز کی ذمہ داری ہوگی جبکہ ملزمان کا ٹرائل خصوصی عدالتوں میں ہوگا، متاثرہ شخص سے جرح صرف ملزم کا وکیل اور جج ہی کرسکے گا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ زیادتی کےمقدمات کا ٹرائل ان کیمرا ہوگا جبکہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) زیادتی کرنے والے تمام مجرمان کا ڈیٹا بھی مرتب کرے گا۔

وزارت قانون نے ضابطہ فوجداری میں لفظ زیادتی کی تعریف میں بھی ترمیم کا فیصلہ کیا جس کے بعد تمام عمر کی خواتین اور 18 سال سے کم عمر مرد کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کو زیادتی میں ہی شمار کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں