پیر, اکتوبر 5, 2026
اشتہار

صدر مملکت نے پمز واقعے میں بچے کی زندگی بچانے والی نرس کیلیے تمغہ شجاعت کی منظوری دے دی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (16 ستمبر 2026): صدر مملکت آصف علی زرداری نے پمز اسپتال آتشزدگی واقعے میں نومولود کی زندگی بچانے والی نرس کیلیے تمغہ شجاعت کی منظوری دے دی۔

صدر آصف علی زرداری نے بدھ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کی نرس رضیہ نورین کے لیے ‘تمغہِ شجاعت’ کی منظوری دی۔
رضیہ نورین نے گزشتہ ماہ 26 اگست کو پمز کی نرسری میں ہولناک آتشزدگی کے دوران اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے نرسری میں موجود ایک نوزائیدہ بچے کی زندگی بچائی تھی۔

مذکورہ بچہ نرسری میں موجود نوزائیدہ بچوں میں زندہ بچ جانے والا واحد بچہ تھا، جس کو بچانے کے لیے نرس رضیہ نورین نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا تھا۔

یہ اعزاز 26 اگست 2026 کو PIMS ہسپتال کی نوزائیدہ بچوں کی نرسری (نیونیٹل نرسری) میں لگنے والی المناک آگ کے تناظر میں دیا جا رہا ہے۔ یہ آگ صبح سویرے لگی تھی اور اس کے نتیجے میں 14 شیر خوار بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

مذکورہ سانحے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے نرس رضیہ نورین سے ملاقات کر کے ان کی بہادری کو سراہا تھا اور وفاقی حکومت کی جانب سے ایک کروڑ روپے کا چیک پیش کرنے کے ساتھ انہیں قومی اعزاز دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک چینی کمپنی نے بھی رضیہ نورین کو ان کی بہادری کے صلے میں 10 لاکھ روپے کا انعام پیش کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 26 اگست کی صبح پمز اسپتال کی نرسری میں ہونے والی آتشزدگی میں 14 نوزائیدہ جھلس کر جاں بحق ہو گئے تھے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں