The news is by your side.

پاکستان کے مثبت اقدام پر بھارتی رویہ مایوس کن ہے: صدر پاکستان

کراچی: صدر  مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان کے مثبت اقدام پر بھارتی رویہ مایوس کن ہے۔

ان خیالات کا اظہار  انھوں نے اے آر  وائی کے پروگرا م ’’الیونتھ آور‘‘  میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔  ان کا کہنا تھا کہ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد اہم قدم ہے۔

عارف علوی نے کہا کہ بھارت اوپرسے کچھ اور اندرسےکچھ اور ہے، 20سال ہوگئے، بھارتی رویےمیں تبدیلی نہیں آئی، بھارت میں عوام کی اکثریت میں مسلم منافرت پائی جاتی ہے۔

صدرعارف علوی کا کہنا تھا کہ جو کام اسرائیل نےفلسطین کےساتھ کیا، بھارت وہی پاکستان سے کر رہا ہے، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملےمیں بھارت بھی ملوث ہوسکتا ہے، بھارت کا بلوچستان میں انتشارپھیلانےمیں بھی ہاتھ رہاہے، کلبھوشن کو پاکستانی عدالتی نظام سے گزار کر سزائے موت تک پہنچانا چاہیے، میرے پاس کلبھوشن کی رحم کی اپیل آئی، تو حکومت جومشورہ دے گی، وہ کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیاست میں’’مودی کایار‘‘جیسے نعرےعوام میں جلدی مقبول ہوتے ہیں، ہماری حکومت بھارت سے امن کےلئے بیتاب ہے، کرتار پور کے معاملے پرپاکستان نے بہت اچھا اقدام کیا۔ 

ایک سوال کے جواب میں صدر پاکستان نے کہا کہ وہ حکومت کو10میں سے9نمبردیں گے، 100روزہ پلان یہ نہیں تھا کہ فوری تبدیلی آ جائے گی، اہم معاملات کی وجہ سےجنوبی پنجاب صوبے پربات آگے نہیں بڑھ سکی۔ نیا صوبہ بنانا آسان کام نہیں،امید ہے کہ اس حکومت کے آدھےدورتک نیاصوبہ بن جائے گا۔


مزید پڑھیں: کراچی کی فکر کرتا ہوں، اس کے مسائل ترجیحی بنیادوں‌ پر حل ہونے چاہییں:‌صدرعارف علوی


صدرعارف علوی نے کہا کہ ممکن ہےعمران خان کی پرویزالہٰی کےبارےمیں رائےاب تبدیل ہوگئی ہو، خواہش تھی پارلیمنٹ لاجزمیں رہوں، مگراسپیکر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔

انھوں نے کہا کہ زرداری صاحب سےمتعلق جومیری پارٹی کاموقف ہےوہی میرا ہے،زرداری صاحب کےزمانے کی طرح اب ایوان صدرسیاسی سرگرمیوں کامرکزنہیں، زرداری صاحب نے58ٹو بی کاخاتمہ کرکےاچھا کام کیا، اٹھارویں ترمیم کی کچھ چیزوں کوبہتربنانےمیں کوئی حرج نہیں۔

صدرعارف علوی کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی پر جس نے بھی حملہ کیا غلط کیا، اسےسزا دینی چاہیے۔

صدر پاکستان نے کہا کہ میرے لئے دو کمروں کا گھر ہی کافی تھا، ایوان صدر کے رہائشی حصے میں کفایت شعاری سے رہ رہا ہوں، فیصلہ کیا ہے کہ ذاتی دوروں پرسرکاری خزانہ استعمال نہیں کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاق اورصوبوں کےدرمیان پل کا کردار ادا کروں گا، صدر نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے استثنیٰ نہیں ملناچاہیے، ہم ہمیشہ پرتشدد ایم کیو ایم کے خلاف رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں