The news is by your side.

Advertisement

صدر بائیڈن کا امریکا میں مہنگائی کا اعتراف، عوامی اقدامات کیلئے منصوبہ پیش کردیا

واشنگتن : امریکی صدر بائیڈن نے ریکارڈ مہنگائی سے متعلق کہا ہے کہ ‘بے روزگاری میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن اشیا کی خریداری کے لیے قیمتیں بہت زیادہ ہیں’۔

غیر خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں گزشتہ برس اکتوبر کے مقابلے میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث کھانے، گیس اور دیگر گھریلو اشیا کی قیمتیں 30 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اس حوالے سے امریکی صدر جوبائیڈن نے بالٹی مور میں خطاب کرتے ہوئے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ‘گیس کے گیلن سے لے کر ڈبل روٹی کے ٹکڑے تک سب مہنگا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں شہریوں کی اجرت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن ہمیں اب بھی مہنگائی کے چیلنج کا سامنا ہے اور اس چیلنج سے ہمیں براہ راست نمٹنا ہوگا۔

صدر بائیڈن نے کچھ دیر قبل بالٹی مور کے دورے سے متعلق ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ‘اس شام میں نے تین چیزوں پر تبادلہ خیال کے لیے بالٹی مور بندرگاہ کا دورہ کیا’۔

پہلی : ہم کیسے قیمتوں میں کمی لا سکتے ہیں، دوسری : اسٹورز میں اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانا اور تیسری : لوگوں کو کام پر واپس لانا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جو اقدامات ہم کر رہے ہیں اور جو بل ہم پاس کر رہے ہیں ان کے ذریعے ان سب میں نمایاں پیشرفت ہوگی۔

خیال رہے کہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں دسمبر 1990 کے بعد پہلی بار تیس سالہ تاریخ میں مہنگائی میں اتنا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین معاشیات نے بتایاکہ جارج بش کے دورِ حکومت جب امریکا عراق اور خلیجی ممالک کے ساتھ جنگوں میں مشغول تھا، اُس وقت بھی اتنی مہنگائی نہیں تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں