The news is by your side.

Advertisement

“اقبال بیگم نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا”

غلام محمد کے گورنر جنرل ہاﺅس سے رخصت ہونے سے تقریباً ہفتہ پہلے اقبال بیگم نے اپنے والد کا سامان سمیٹنا شروع کردیا تھا۔

خدمت گاروں، بیروں، خانساموں، چپڑاسیوں، مالیوں اور صفائی کے عملے کو حسبِ مراتب اور حسبِ خدمات بخششیں تقسیم کیں۔

زیادہ سے زیادہ پانچ سو روپیہ اور کم سے کم ایک سو روپیہ فی کس دیا گیا۔

پرسنل اسٹاف کے لیے غلام محمد نے اپنی تصویر پر دستخط کر کے چاندی کے فریم میں تحفتاً دی، راقم کے لیے تصویر پر جب دستخط کرنے لگے تو ملٹری سیکریٹری کرنل سید نیر رضا کو جو دستخط کروا رہے تھے، کہا کہ اسے چھوڑ جاﺅ۔

بعد میں راقم کو بلایا، کالے رنگ کے بکس سے تصویر نکالی اور قلم لے کر اوپر لکھنا شروع کر دیا۔ میں نے شکریہ کے ساتھ وصول کی تو لکھائی یوں تھی۔

For Khalid, in appreciation of his devoted service

واپس آنے لگا تو کہا ٹھیرو۔ کالا بکس دوبارہ کھلا اور شیفر فاؤنٹن پین اور پنسل کا ڈبا نکالا، پوچھا یہ نیا سیٹ لینا پسند کرو گے یا پرانا استعمال شدہ؟

میں نے جذباتی ہوتے ہوئے مؤخر الذکر کی طرف اشارہ کیا۔ واپس کمرے میں آکر خیال آیا کہ خواہ مخواہ جذبات میں بہہ گیا۔ نیا سیٹ بہتر تھا۔

یہ پرانا استعمال شدہ قلم تو وہی ہے جس سے خواجہ ناظم الدین کا کام تمام اور دستور ساز اسمبلی کا قلع قمع کیا گیا تھا۔ سبز رنگ کا یہ قلم میرے پاس ابھی تک محفوظ ہے۔ البتہ تصویر خراب ہوگئی ہے اور چاندی کے فریم کا رنگ سیاہ ہوچکا ہے۔

(م۔ ب خالد 1952 میں‌ اُس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد کے پرسنل سیکرٹری تھے، اُس دور کے مختلف واقعات اور اپنی یادوں کو انھوں‌ نے ”ایوانِ صدر میں سولہ سال“ نامی کتاب میں‌ محفوظ کیا تھا، یہ سطور اسی کتاب سے لی گئی ہیں)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں