پاکستان تاریخ کے اس موڑپرہے جہاں غلطی کی گنجائش نہیں، صدِرمملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان تاریخ کے اس موڑپرہے جہاں غلطی کی گنجائش نہیں، صدِرمملکت کا مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین نے آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تیسرا خطاب کیا اور پارلیمنٹ کو چوتھے سال کے آغاز پر ممبران کو مبارک باد دی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا کہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔

خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 3 سال کے اس سفر میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے سیاسی شعور میں بالیدگی آئی ہے اور ہماری قوم اور سیاست داں ہر قسم کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پیدا کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں نرم و گرم اور تلخ و شیریں جمہوریت کا سفر جاری رہا ہے اور پارلیمنٹ کے اقدامات سے جمہوریت مضبوط ہورہی ہے اور اسے مزید مضبوط اور مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔

معاشی ترقی

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن ہونے کے سبب میری نظر خطے میں پائی جانے والی بے چینی اور کئی دہائیوں سے جاری رہنے والی جنگوں کے سبب ہونے والے افراط زر پر رہی ہے۔

صدر مملکت کے مطابق افراط زر کے مسئلے سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت نے ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنانے اور مزید زرمبادلہ حاصل کرنے پر زور دیا ہے جس سے بجٹ خسارے میں کمی آئی ہے اور شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے جس پر عالمی ادارے اطمینان کا اظہار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ معاشی پالیسیوں پرحزب اختلاف کی تنقید کو اپنی قوت بنائے اور حزب اختلاف کو بھی چاہیئے کہ تاریخ کے اس موڑ پر حزب اختلاف بھی اس بات کا خیال رکھے کہ ان کی تنقید قائد اعظم کے اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔

ممنون حسین کا کہنا تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی معاشی پالیسیوں سے لگایا جاسکتا ہے اور وزیر اعظم نواز شریف ملک کی مضبوط معاشی پالیسی بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یاد رکھیے کہ پائیدار ترقی کا سفر جمہوریت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

نوجوانوں کی فلاح وبہبود

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ سالوں میں نوجوانوں کی فلاح بہبود پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہیں آسان قرضے اور لیپ ٹاپ فراہم کیے گئے ہیں اور میری خواہش ہے کہ کسی کی بھی حکومت ہو نوجوانوں کی فلاح کے یہ منصوبے جاری رہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ پاک چین راہداری منصوبے پر کام جاری ہے اور اگر کسی کو بھی اس پر شکوک و شبہات ہیں تو انہیں چاہیئے کہ اس پر بات کر کے اس منصوبے کی راہ میں حائل تمام داخلی اور خارجی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے اور ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہوجائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا سمیت خطے کے کئی ممالک نے پاک چین راہداری سے فوائد حاصل کرنے شروع کردیے ہیں اور کئی ممالک کے پاکستان کے ساتھ ذرائع نقل و حمل بہتر بنانے کے معاہدے اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

صدر مملکت نے خطاب کے دوران شعر پڑھا کہ

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
کہ مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

توانائی بحران

انہوں نے توانائی بحران پر تجویز دیتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ دیامیر بھاشا اور دیگر ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے ندی نالوں سے ہائیڈل انرجی حاصل کرنے پر توجہ دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے اور اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ درمیانی سطح کے سرمایہ کاروں کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔

آپریشن ضرب عضب اور اس کے ثمرات

آپریشن ضرب عضب پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ رواں سال کے اختتام تک پاکستان اپنی داخلی سلامتی کے مسائل پر قابو پالے گا اور آپریشنِ ضرب عضب کے نتائج بھرپور انداز میں سامنے آنے لگیں گے۔

ان کا یہ بھہ کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ جن علاقوں میں بدامنی کے سبب چھوٹے کاروباری افراد کے کاروبار تباہ ہوگئے ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ ایک بار پھر ملکی دھارے میں شامل ہوسکیں۔

صدرمملکت نے کہا کہ شدت پسندوں سے انہی کے اسلوب اور زبان میں بات کرنا ہوگی۔ اس کے لیے میں چاہتا ہوں کہ علمائے کرام اور دانش مندوں کا ایک گروہ شدت پسندی کے اسباب پر غور کرے اور پھر اس کے سدباب ڈھونڈے جائیں۔

صدر ممنون نے دفاع وطن میں شہید ہونے والے سول اور فوجی افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم انہیں اپنا محسن سمجھتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس جنگ میں شہید ہونے والے افراد کی ایک قومی یادگار تعمیر کی جائے اور اس پر تمام شہدا کے نام کندہ کیے جائیں۔

انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ قوم اس مشکل گھڑی میں فوج کی حمایت کرے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

انسداد پولیو مہم کے شہدا کوخراج تحسین

صدرمملکت نے اس موقع پر انسداد پولیو مہم میں شہید ہونے والے رضا کاروں اور پولیس اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی

صدر مملکت نے خارجہ امور پر گفتگو کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو برصغیر کی تقسیم کا نا مکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے اس کے عوامی امنگوں کے مطابق حل کو خطے کے بیشتر مسائل کا حل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حالیہ دنوں میں فریق مخالف کی جانب سے تشویشناک اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ کی سطح کے مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں مستقل قیام امن کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی اور ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اسلامی برادری سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی میں پاکستان نے ترکی کی مدد سے انتہائی اہم کردارادا کیا جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی کا دورہ پاکستان بھی انتہائی اہم رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف تشکیل پانے والے 35 ملکی اتحاد میں پاکستان کی شمولیت ایک اہم قدم ہے جس سے عالمی دہشت گردی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی 3 اصولوں پر مبنی ہے جو کہ تعمیری سفارت کاری، عدم مداخلت اور تجارتی اور معاشی تعاون ہیں۔

ایک اور مقام پر انہوں نے شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں