site
stats
پاکستان

پاکستان و تاجکستان تعلقات توانائی کے شعبے میں انقلاب لا سکتے ہیں،صدر پاکستان

تاشقند:‌ صدر پاکستان ممنون حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اورتاجکستان کو باہمی تجارت کاحجم پچاس کروڑ ڈالر تک لے جانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدرِ پاکستان ،وہ شنگھائی تعاون کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے تاشقند کے دورے پر ہیں اس دوران انہوں نے جمعرات کے روز تاشقند میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

صدرِپاکستان ممنون حسین نے اپنے ہم منصب تاجکستانی صدر امام علی رحمان سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ملکوں میں تجارت اور توانائی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات پائے جاتے ہیں

اس موقع پر انہوں نے پاکستان اور تاجکستان کے شاندار دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی اورتجارتی تعلقات میں تبدیل کرنے پر ذوردیا۔

صدر ممنون حسین نے تے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے کاسا۔1000منصوبے کی تکمیل کے لیے تاجکستان کے عزم اور تعاون کے لئے صدرعلی رحمان کا شکریہ ادا کیا اور اسے علاقائی روابط کے فروغ میں سنگ میل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ کاسا-1000منصوبہ پاکستان میں بجلی کی قلت کم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہوگا جس کے لیے ہم دوست ممالک کے شکر گذار ہیں۔

اس موقع پر صدرِ پاکستان نے پاکستان ، افغانستان اور تاجکستان کے درمیان راہداری تجارت کے بارے میں سہ ملکی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر زور دیا جس سے علاقائی تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔

دونوں رہنمائوں نے انتہا پسندی ، دہشت گردی ، سرحد پار منظم جرائم ، انسداد منشیات ، انسانی سمگلنگ اور علاقائی اور عالمی سلامتی کو درپیش دیگر خطرات کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا ۔

صدر رحمان نے وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور ان کے لئے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top