صدر مملکت نے فوجی عدالتوں کی توسیع کے بل پر دستخط کردیے -
The news is by your side.

Advertisement

صدر مملکت نے فوجی عدالتوں کی توسیع کے بل پر دستخط کردیے

اسلام آباد: صدر مملکت ممنون حسین نے فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق بل پر دستخط کر دیے جس کے بعد فوجی عدالتوں کو 2 سال کی توسیع مل گئی۔ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر کو بھجوایا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین نے آئین پاکستان میں 23 ویں ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق آرمی ایکٹ ترمیمی بل پر دستخط کر دیے ہیں۔ صدر مملکت کی منظوری کے بعد فوجی عدالتوں کو 2 سال کے لیے قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی میں فوجی عدالتوں‌ میں توسیع کا بل منظور

قومی اسمبلی سے منظوری کے دوران مذکورہ ترمیم کو 28 ویں آئینی ترمیم کہا گیا کیونکہ قومی اسمبلی میں آئین میں متعدد ترامیم کے بل پیش ہوئے تھے، تاہم پاکستانی آئین میں اب تک 22 آئینی ترامیم ہوچکی ہیں اور یہ 23 ویں آئینی ترمیم ہے۔

صدر مملکت نے انکوائری کمیشن بل 2017 پر بھی دستخط کر دیے جس کے بعد یہ بل بھی قانون کاحصہ بن گیا۔

یاد رہے کہ 21 مارچ 2017 کو قومی اسمبلی نے 28 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں میں 2 سالہ توسیع کی منظوری دی تھی۔

قومی اسمبلی میں آئین میں 28 ویں بار ترمیم کا بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا تھا جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کیا۔ بل کی حمایت میں 255 ارکان نے ووٹ ڈالے جبکہ صرف 4 ارکان نے اس کی مخالفت کی تھی جن میں محمود خان اچکزئی اور جمشید دستی بھی شامل تھے۔

مذکورہ ترمیم کے لیے ایوان میں ہونے والی رائے شماری میں جمعیت علمائے اسلام ف (فضل الرحمٰن گروپ) نے حصہ نہیں لیا تھا۔

مزید پڑھیں: سینیٹ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل منظور

بعد ازاں بل کو سینیٹ میں پیش کیا گیا جہاں اسے 2 تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا۔ بل کےحق میں 78 اور مخالفت میں 3 ووٹ ڈالے گئے۔

سینیٹ میں ہونے والی رائے شماری میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کی جبکہ جے یو آئی (ف) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

آئین پاکستان میں 23 ویں ترمیم

حالیہ آئینی ترمیم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

یہ ترمیم 7 جنوری 2017 سے لاگو ہوگی۔

ایکٹ کے تمام احکامات تاریخ آغاز سے اگلے 2 سال تک نافذ العمل ہوں گے۔

مدت کے اختتام کے بعد ترمیم کے تمام احکامات از خود منسوخ تصور ہوں گے۔

ریاست مخالف اقدامات کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں چلائے جائیں گے۔

سنگین اور دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔

مذہب اور فرقہ واریت کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے مقدمات بھی فوجی عدالتیں دیکھیں گی۔

آرمی ایکٹ 2017

آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترامیم یہ ہیں:

دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ملزم کو اس کا جرم بتایا جائے گا۔

ملزم کو 24 گھنٹے کے دوران فوجی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ملزم کو مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت ہوگی۔

قانون شہادت کا اطلاق ہوگا۔

یاد رہے کہ دسمبر 2014 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد 6 جنوری 2015 کو پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر آئین میں 21 ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کی خصوصی اختیارات کے ساتھ قیام کی منظوری دی تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 2 سال کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے 274 مقدمات میں 161 مجرموں کو پھانسی اور 113 مجرموں کی قید کی سزا سنائی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں