site
stats
عالمی خبریں

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیرملکی دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ، صدرٹرمپ تین مختلف اجلاسوں میں سعودی اور اسلامی دنیا کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض پہنچ گئے ، ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، بیٹی ایوانکا ٹرمپ اور داماد بھی ان کے ہمراہ ہیں، صدرٹرمپ عرب اسلامک امریکن سمٹ سے خطاب بھی کریں گے جبکہ خلیجی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں انتہا پسندی، دہشتگردی کے خلاف جنگ اور مذہبی رواداری پربات کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا سعودی عرب کے ساتھ تقریباً ایک کھرب ڈالر اسلحہ کے معاہدے کرنا چاہتا ہے، جو مستقبل میں تین کھرب تک پہنچ سکتے ہیں، دفاعی معاہدوں کے علاوہ بجلی، تیل اور گیس اور صنعتی اور کیمیائی شعبوں میں بھی معاہدے متوقع ہیں۔

صدر ٹرمپ کی سعودی عرب آمد سے قبل سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبير کا کہنا تھا کہ امریکا اور مغرب اسلامی دنیا کے دشمن نہیں، اسلامی دنیا کے رہنماؤں کی ٹرمپ سےملاقاتوں میں دہشت گردی اور شدت پسندی پربات ہوگی۔


مزید پڑھیں : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ


امریکی صدر کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے ، اس کے بعد وہ اسرائیل اور ویٹی کن جائیں گے ۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دورے کا مقصد خطے میں ایران کی پالیسیوں کا توڑ کرنے کے لیے ایک اتحاد تشکیل دینا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس دوران اٹلی میں ہونے والے جی 7 سمٹ سے خطاب بھی کریں گے۔

خیال رہے کپ ٹرمپ کی جانب سے اپنے پہلے دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کرنا، مسلم ملک کے ساتھ امریکا کے تعلقات کی بحالی کی طرف سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے آخری دنوں میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی تھی، جس کی وجہ یمن، شام اور ایران کی طرف سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کو قرار دیا جاتا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top