صدراتی انتخاب، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو طلب
The news is by your side.

Advertisement

صدراتی انتخاب، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو طلب

اسلام آباد: صدراتی انتخاب کی پولنگ کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو طلب کرلیا گیا، پی ٹی آئی نے عارف علوی  جب کہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے  نئے صدر کا انتخاب 4ستمبرکو ہوگا، جس کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو صبح 10 بجے ہوگا۔

اجلاس میں صدر مملکت کے انتخاب کے لیے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان ووٹ کاسٹ کریں گے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق امیدوارکاغذات نامزدگی ستائیس اگست دن بارہ بجے تک جمع کراسکتے ہیں، کاغذات صوبائی پریذائیڈنگ افسران کے پاس جمع کرائے جا سکتے ہیں، کاغذات کی جانچ پڑتال انتیس اگست صبح دس بجے شروع ہوگی، کاغذات کی جانچ پڑتال چیف الیکشن کمشنراورآراوز کریں گے۔

یاد رہے کہ صدراتی انتخابات کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عارف علوی امیدوار ہیں جب کہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں میں اس نام پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

خیال رہے صدر کی آئینی مدت 9 ستمبر 2018 کو پوری ہوگی ، صدر کی آئینی مدت پوری ہونے سے 30دن قبل انتخابات کرانے ہوتے ہیں۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ کار

مملکت خداداد پاکستان میں صدارتی انتخاب کا الیکٹورل کالج پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل 11 سو 70 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان میں سے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار نہیں کیا جاتا۔

آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے سب سے چھوٹی اسمبلی یعنی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی مناسبت سے ہر صوبائی اسمبلی کے پینسٹھ ووٹ شمار ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جائے گا۔

اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد 702 بنتی ہے۔ ان میں سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ملک کا صدر منتخب ہو گا۔

نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی۔

اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں پریزائیڈنگ افسر چیف الیکشن کمشنر جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پریزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔

آئین میں درج طریقے کے مطابق پریزائڈنگ افسر ہر رکن کو اس کی متعلقہ اسمبلی ہال کے اندر ایک بیلٹ پیپر فراہم کرے گا جس میں صدارتی امیدواروں کے نام چھپے ہوں گے۔

ہر رکن خفیہ طریقے سے اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر اس کے حق میں اپنا ووٹ دے گا۔ یہ بیلٹ پیپر پریزائڈنگ افسر کے سامنے پڑے ہوئے بیلٹ بکس میں ڈالا جائے گا۔

پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ہر پریزائڈنگ افسر انتخاب لڑنے والے امیدواروں یا ان کے نمائندوں کے سامنے بیلٹ بکس کھولے گا اور اس میں موجود ووٹ ان افراد کے سامنے گنے جائیں گے۔ ووٹوں کی اس گنتی سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا جائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر چاروں صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہیں اکٹھا کریں گے اور زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو منتخب قرار دیں گے۔ اگر دو یا زیادہ امیدوار ایک جتنے ووٹ حاصل کریں تو فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا۔

چیف الیکشن کمشنر گنتی مکمل ہونے کے بعد منتخب امیدوار کے نام کا اسی وقت قومی اسمبلی میں اعلان کریں گے اور اس سے وفاقی حکومت کو بھی آگاہ کریں گے جو ان نتائج کا سرکاری اعلان کرے گی۔ نو منتخب صدر سے ملک کے چیف جسٹس آئین میں درج حلف لیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں