اسلام آباد (12 جنوری 2026): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں سے متعلق صدارتی آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مقامی حکومتوں سے متعلق صدارتی آرڈینسس جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ آرڈیننس صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط سے جاری ہوا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی سطح پر 3 ٹاؤن کارپوریشنز بنائی جائیں گی اور ہر ٹاؤن کارپوریشن کا ایک میئر اور2 ڈپٹی میئرز ہوں گے جب کہ ان کی مدت چار سال ہوگی۔
ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسل کی تعداد کا تعین وفاقی حکومت کرے گی۔ ایک یونین کونسل 9 جنرل کونسلرز اور 4 مخصوص نشستوں پر مشتمل ہو گی۔ آرڈیننس کے مطابق سربراہ کا مطلب ٹاؤن کارپوریشن کا میئر یا یونین کونسل کا چیئرمین ہو گا جب کہ مقامی حکومت کا مطلب یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہوگا۔ مقامی حکومت میں حکومت کا تقرر کردہ ایڈمنسٹریٹر ہو گا۔
وفاقی حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات پر ٹاؤن کارپوریشن اور یوسی کی حدود میں ترمیم کرے گی۔ حکومت وزارت داخلہ کی سفارش پر ٹاؤن کارپوریشن کی یوسیز کی تعداد میں اضافہ یا کمی کر سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن یونین کونسلز کی حلقہ بندی کرے گا۔
آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبران شامل ہوں گے۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں 4 خواتین، ایک کسان اور ایک تاجر یا بزنس مین ہو گا جب کہ ایک نوجوان رکن اور ایک غیر مسلم کی نشست بھی ہوگی۔
لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت یونین کونسل کے جنرل ممبر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ جنرل ممبر کے انتخاب کیلیے سارا یونین کونسل ملٹی ممبر وارڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔ ایک ووٹر ایک جنرل ممبر امیدوار کے لیے ووٹ ڈال سکے گا۔
سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے 9 امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے۔ کامیاب امیدوار 30 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت حاصل کر سکتے ہیں۔ جنرل ممبران یونین کونسل کی مخصوص نشستوں پر ممبران، شو اف ہینڈ کے ذریعے منتخب کریں گے۔
یوسی کے جنرل اور مخصوص نشستوں کے ممبران شو آف ہینڈ کے ذریعہ چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کریں گے۔ چیئرمین اور وائس چیئرمین بھی 30 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے۔ یونین کونسل کا چیئرمین ٹاون کارپوریشن کا جنرل ممبر ہوگا۔
جنرل ممبران ٹاؤن کارپوریشن کیلیے مخصوص نشستوں کے ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ سے کریں گے۔ ممبران اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والے کو شو آف ہینڈ سے مشترکہ میئر اور ڈپٹی مئیر منتخب کرینگے۔ ٹاون کارپوریشن کا ممبر ہی میئر یا ڈپٹی میئر کا الیکشن لڑ سکے گا۔
جہاں مقامی حکومت فعال نہیں ہوگی، وہاں حکومت اینڈمنسٹریٹر تعنیات کرے گی۔ مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹرز ٹیکس، فیس، کرایہ، ٹول، چارج لگائے گی۔ ہر ٹیکس تجویز کی پہلے حکومت توثیق کرے گی۔ اینڈمنسٹریٹر کی ٹیکس تجویز کو حکومت توثیق کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔
مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹرز ٹیکس میں اضافہ، کمی یا اسے ختم کرے یا استثنیٰ دے گی۔ اس سلسلے میں انہیں حکومت کی ہدایات لازمی ماننا ہوں گی۔


