اسلام آباد : حکومت نے پاکستان کی جانب سے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لینے کے فیصلہ کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
حکومت نے پیپلزپارٹی کے تحت قومی اسمبلی میں بھرپور احتجاج کے بعد صدر مملکت کی منظوری کے بغیر جاری ہونے والے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس حوالے سے وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آرڈیننس 6 دیگر بلز اور ایک آرڈیننس کے ہمراہ ایوان صدر بھجوایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سمریوں اور فائلوں کی منظوری ای آفس کے ذریعے دی جاتی ہے، ایوان صدر کی جانب سے ای آفس سے اجتماعی طور پر تمام بلز اور آرڈیننسز کی منظوری دی گئی تھی۔
ذرائع وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ای آفس منظوری کے تناظر میں آرڈیننس جاری کردیا گیا تھا، ایوان صدر سے فائلیں واپس پہنچیں تو مذکورہ آرڈیننس پر صدر کےدستخط نہیں تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ لایا جائے گا۔
مزید پڑھیں : پیپلز پارٹی کا احتجاج کام کر گیا، وزیراعظم ہاؤس نے آرڈیننس واپس لے لیا
قبل ازیں سابق وزیراعظم و رہنما پی پی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے پس پردہ عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر قانون کو صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے اس طرح کے رویے حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے مترادف ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


