ایرانی، ترکی اور روسی صدور کی ملاقات، شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال
The news is by your side.

Advertisement

ایرانی، ترکی اور روسی صدور کی ملاقات، شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال

تہران: ایرانی صدر حسن روحانی، روس کے سربراہ ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان ملاقات ہوئی اس دوران شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق روس، ترکی اور ایران کے سربراہان کے درمیان اہم ملاقات ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی جہاں شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ملاقات میں تینوں ملکوں کی جانب سے متفقہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ شام کے حالات کا سیاسی حل ممکن ہے۔

مذاکرات میں ایران اور روس نے شامی صوبے ادلب کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے فوجی آپریشن کی حمایت کی جبکہ ترکی نے جنگ بندی کی اپیل کی۔

شام کا معاملہ: ترک، ایران اور روسی سربراہان کا اہم اجلاس

خیال رہے کہ ان دنوں شامی صوبے ادلب میں شدید خانہ جنگی کی صورت حال ہے، اسی سے متعلق تینوں ملکوں نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ شام میں باغیوں کے زیر قبضہ ادلب صوبے کے تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے۔

علاوہ ازیں ترک صدر رجب طیب اردوگان نے شامی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ شمال مغربی شامی صوبے ادلب میں جنگ بندی کا اعلان کرے، مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ رواں سال 4 اپریل کو بدھ کے روز ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوگان کی زیر صدرات شام میں جاری بحران کے حوالے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں ایرانی صدر حسن روحانی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شرکت کی تھی۔

واضح رہے کہ مذکورہ اجلاس میں ترکی، ایران، اور روس نے شام میں قیام امن کے لیے اپنی کوششیں تیز کرتے ہوئے بحران زدہ ملک میں قائم حفاظتی علاقوں میں موجود شہریوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر ہر ممکن اقدامات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں