سنگاپور : عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 104 ڈالر سے تجاوز کرگئی ، آبنائے ہرمز بند ہونے سے دنیا میں تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور سپلائی لائنز میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان آج بھی برقرار ہے۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت 1.51 فیصد اضافے کے بعد 104.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے ساتھ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں 0.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ 99.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کے اہم ترین آئل ٹرمینل ‘خارگ جزیرہ’ پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناو مزید بڑھ گیا ہے۔
اگرچہ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خوف برقرار ہے۔
ایران کی جانب سے عالمی تجارت کے اہم ترین راستے ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کی مؤثر بندش نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے، دنیا کی کل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کے رک جانے سے عالمی منڈی میں تیل کی قلت کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تصادم نے انوسٹرز کو تذبذب کا شکار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں گزشتہ کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں، جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت اور مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


