The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم عمران خان کی ڈنر ڈپلومیسی؟

اسلام آباد: گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ دیا، تاکہ ان حالات پر قابو پایا جا سکے جو پارٹی کے اندر اختلافات اور اتحادیوں کے ساتھ بڑھتے مسائل سے پیدا ہوئے۔

حکومتی اور اتحادیوں کے اعزاز میں عشائیے میں وفاقی وزرا، سینیٹرز اور معاون خصوصی شریک ہوئے، ان کے علاوہ عشائیے میں جو اتحادی شریک ہوئے ان میں ایم کیو ایم پاکستان، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی شامل تھے۔

وزیر اعظم نے فرداً فرداً ارکان اسمبلی سے ملاقات کی، ان کے تحفظات کو سنا، اور ارکان اسمبلی کو بجٹ اور ملکی صورت حال پر اعتماد میں لیا۔

لیکن دل چسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف اگر عوامی مسلم لیگ کے رہنما وزیر ریلوے شیخ رشید کرونا وائرس انفیکشن سے حال ہی میں صحت یاب ہونے کی وجہ سے اس عشائیے میں شریک نہ ہو سکے، وہاں دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ق کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے ان کی رہائش پر ارکان قومی اسمبلی کے لیے الگ عشائیے کی تقریب منعقد کرنا معنی خیز رہا۔

مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہوجائے گا، وزیراعظم

وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کی اپنی رہائش گاہ پر عشائیے میں مونس الہٰی، چوہدری سالک حسین، چوہدری حسین الہٰی، اسلم بھوتانی، خالد مگسی، بی اے پی کے سردار اسرار ترین اور زبیدہ جلال، احسان اللہ ریکی، روبینہ عرفان اور جی ڈی اے کی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا شریک ہوئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتوں جی ڈی اے اور بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین بھی اس وقت دو کشتیوں میں سوار ہیں۔

دوسری طرف عشائیے میں وزیر اعظم نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں سب متحد ہیں، تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے، حکومت تمام اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلے گی۔ انھوں نے کہا کہ کرونا صورت حال کے پیش نظر ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کم ہوئیں، تمام پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ تاہم وزیر اعظم نے یہ اعتراف کیا کہ پارٹی کو موجودہ صورت حال میں بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔

تین اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم کے عشائیہ میں شرکت سے معذرت کر لی

عشائیے میں ارکان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر وزیر اعظم سے سوالات کیے، اور انھیں باور کرایا کہ اچانک قیمتیں بڑھانے سے عوامی حلقوں میں تنقید ہونے لگی ہے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ وبا کے دوران تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ منعقد کی گئی اس تقریب میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے شکایات کے انبار لگائے گئے، اور متعدد مطالبے کیے گئے۔

ایم کیو ایم کے بنیادی مطالبات میں بلدیاتی حکومت کے اختیارات، کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد، لاپتا اور قید کیے گئے کارکنان کی بازیابی، حیدرآباد یونی ورسٹی کا قیام، سیورج، کے فور اور گرین لائن بس منصوبوں کی جلد تکمیل شامل تھے۔ عمران خان نے ایک بار پھر ایم کیو ایم کو یقین دلایا کہ شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور وعدے پورے کیے جائیں گے۔

ادھر گزشتہ روز اپوزیشن بھی متحرک رہی، اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اچانک پریس کانفرنس کر کے حکومتی اور اتحادیوں کی پریشانی بڑھا دی۔ انھوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے بجٹ 2020 کو مسترد کر دیا ہے۔ پریشانی کی بات یہ تھی کہ بجٹ کے خلاف حزب اختلاف کے مشترکہ اعلامیے پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی)، قومی وطن پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، اور نیشنل پارٹی نے دستخط کیے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وفاقی بجٹ معیشت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہے، عمران خان کی حکومت بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں دے سکی، پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ثبوت ہے کہ اب ہر ماہ منی بجٹ کی سیریز آئے گی، پی پی، ن لیگ نے اتنا مجموعی قرضہ نہیں لیا جتنا پی ٹی آئی 2 سال میں لے چکی ہے، بجٹ خسارہ بھی ماضی سے زیادہ رہا، جی ڈی پی تاریخ میں پہلی بار منفی ہو گیا۔ اگرچہ بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن اکھٹی ہو چکی ہے لیکن گزشتہ روز سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بجٹ پاس ہو جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت عشائیے کے اپنے مقصد میں کام یاب ہو گئی ہے۔

دوسری طرف حکومت کے لیے پریشانی بڑھانی والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس تاخیر کا شکار ہو چکی ہے، مسلم لیگ (ن) نے شہباز شریف کی کرونا وائرس سے علالت کے باعث اے پی سی کے لیے کچھ روز کی مہلت مانگ لی ہے، ذرایع کا کہنا ہے کہ کچھ روز بعد شہباز شریف کے کرونا کا ٹیسٹ ہوگا، جس کے بعد اے پی سی بلائی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں