site
stats
پاکستان

انقلاب یا تبدیلی باتوں سے نہیں اقدامات سے آتی ہے: وزیر اعظم

پشاور: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ انقلاب یا تبدیلی باتوں سے نہیں اقدامات سے آتی ہے۔ بنیادی اصول ہے کام کریں گے تو آگے بڑھیں گے کام نہیں کریں گے تو گھر جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نیشنل انکیوبیشن سینٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس افتتاح کو تمام پروجیکٹس سے زیادہ اہم سمجھتا ہوں۔ سینٹر نوجوانوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل انکیوبیشن پروجیکٹ کو پائلٹ پروجیکٹ سمجھا جائے۔ اس قسم کے منصوبے دوسرے اداروں کے لیے بھی مشعل راہ ہوتے ہیں۔ براڈ بینڈ کی سہولت پورے پاکستان میں ہونی چاہیئے۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی شراکت داری سے قائم ادارے کے افتتاح سے خوشی ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہزاروں میل طویل موٹر ویز بنائیں۔ انقلاب باتوں اور دعوؤں سے نہیں کام کرنے سے آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب یا تبدیلی باتوں سے نہیں اقدامات سے آتی ہے۔ ملک بھر میں براڈ بینڈ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بنیادی اصول ہے کام کریں گے تو آگے بڑھیں گے۔ کام نہیں کریں گے تو گھر جائیں گے، وفاقی اور صوبائی صورتحال سامنے ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام کو سب نظر آرہا ہے کام کر کے دکھائیں منتخب کریں گے۔ عوام نے جس کو مینڈیٹ دیا حکومت اس کے پاس ہوگی۔ مینڈیٹ والی اس حکومت نے مسائل حل کرنے ہیں۔ اچھا کام کریں گے تو آپ کے راستے میں مسائل کھڑے کیے جائیں گے۔ ہم نے 4 سال میں مسائل کے باوجود بہترین کام کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امید ہے نوجوان روزگار حاصل کر کے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ ہماری حکومت آئی تو ایک سال کے اندر اندر لوگوں نے تبدیلی دیکھی۔ ٹیکنالوجی سمیت تمام شعبوں پر بھرپور توجہ دی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔ عوام کا جمہوریت کے سفر میں جو فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے۔ گزشتہ روز فاٹا میں بھی براڈ بینڈ سہولت متعارف کروائی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top