site
stats
اہم ترین

آج دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان ہے،وزیراعظم نوازشریف

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نے پاکستانی سفیروں کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان ہے،سفیر پورے اطمینان سے پاکستان کا تصور دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں.

تفصیلات کےمطابق اسلام آباد میں سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے شرکاء کو علاقائی و عالمی امن،ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور ترقی کے وژن سے آگاہ کیا.

کانفرنس میں امریکا (واشنگٹن ڈی سی) میں تعینات پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی،چین (بیجنگ) میں تعینات سفیر مسعود خالد،ہندوستان (نئی دہلی) میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط، اقوام متحدہ (نیویارک) میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی، ویانا میں پاکستانی سفیر عائشہ ریاض، یورپی یونین (برسلز) میں پاکستانی سفیر نغمانہ پاشمی، افغانستان میں پاکستانی سفیر ابرار حسین، اقوام متحدہ (جینیوا) میں پاکستانی سفیر تہمینہ جنجوعہ اور روس (ماسکو) میں تعینات پاکستانی سفیر قاضی خلیل اللہ نے شرکت کی.

وزیراعظم پاکستان نے پاکستانی سفیروں کی کارکردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرنا کہیں آسان ہے،سفیر پورے اطمینان سے پاکستان کا تصور دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں اور عالمی برادری کو معاشی خوشحالی اور محفوظ سرمایہ کاری کی طرف متوجہ کرسکتےہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ملک سے دہشت گردی کے مراکز کاخاتمہ کردیا گیا ہے،اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں کا پوری نے اعتراف کیا ہے.

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے لیکن ہماری اس خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،پاکستان عدم مداخلت اور خودمختاری کے احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے.

وزیراعظم نے اس موقع پرچین کو قابل بھروسہ دوست قرار دیا اور کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ایک گیم چینجر ثابت ہوگا اور اس سے خطے میں امن و استحکام پیدا ہوگا.

اس سے قبل مشیرامور خارجہ سرتاج عزیز نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان پہلے کے مقابلے میں دنیا سے آج کہیں زیادہ منسلک ہے

سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ تین سالہ کارکردگی کا جائزہ مخصوص میڈیا کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس نقطہ نظر کی حمایت نہیں کرتا کہ پاکستان دنیا میں اکیلا ہوگیا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی کی کوئی سمت نہیں ہے۔.

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ درحقیقت آج ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں مربوط ہیں اور وزیراعظم نواز شریف کے مضبوط، متحرک اور خوشحال پاکستان کے وژن اور پر امن ہمسائیگی کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اسٹریٹیجک مذاکرات بحال کیے ہیں اور پاکستان کے اہم قومی مفادات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے سیکیورٹی اور معاشی ترقیوں کے ایجنڈے کو مزید وسیع کیا ہے.

یاد رہے کہ دفتر خارجہ میں پاکستانی سفیروں کی 3 روزہ کانفرنس یکم اگست کو شروع ہوئی تھی.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top