اسلام آباد (16 جنوری 2026): وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے شہریوں کیلیے وزیر اعظم صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور طبقے کا سہارا بننا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اے پی پی کے مطابق وزیر اعظم نے وزیر اعظم صحت کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا، تقریب میں وفاقی وزرا، ارکان قومی اسمبلی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ علاج اور صحت کی سہولیات کا حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے، حکومت عوام کو ان کی دہلیز پر یہ سہولتیں فراہم کر رہی ہے، 2016 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے صحت کارڈ پروگرام کا اجرا کیا تھا اور صوبوں میں بڑی تیزی سے یہ پروگرام عوام تک پہنچا اور لاکھوں خاندان اس سے مستفید ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت سے زیادہ زندگی میں کوئی اور چیز قیمتی نہیں ہے، صحت ہوگی تو تعلیم، کھیل اور زندگی کے ہر شعبے میں سرگرمیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں اور مخالفین کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھائیوں اور بہنوں کیلیے صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے، اس کیلیے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال، سیکرٹری صحت اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم صحت کارڈ کا اجرا عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل ہے، پاکستان میں اشرافیہ امریکا، یورپ اور دیگر ممالک میں اپنے اور اپنے بچوں کیلیے مہنگے ترین علاج کا انتظام کروا سکتی ہے لیکن عام آدمی، مزدوروں اور غریب طبقے کیلیے بہت مشکلات ہیں، صحت ہوگی تو انسان باوقار طریقے سے روزگار کما سکے گا، صحت ہوگی تو نوجوان کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کریں گے، صحت ہوگی تو ہر میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، مجھے امید ہے کہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے، اس سے دین اور دنیا دونوں میں بھلائی ہوگی، تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت یقینی بنائی جائے، ریاست عام شہری کے علاج کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔
’سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجرا کی تجویز قابل غور ہے، سندھ کا یقیناً اپنا پروگرام ہوگا، وزیر اعلیٰ سندھ سے اس حوالے سے بات کر کے اس کا حل نکالیں گے تاکہ وہاں پر بھی یہ سہولت میسر ہو۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی صحت کے پروگرام موجود ہیں، پنجاب میں بھی بڑی کامیابی کے ساتھ صحت کارڈ پروگرام پر عملدرآمد جاری ہے اور اربوں روپے اس پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔‘
ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2016 میں اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا، صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ایک کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی، حکومت صحت کی سہولیات ہر شہری تک پہنچانے کیلیے پرعزم ہے، یہ پروگرام ایک کروڑ سے زائد شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرے گا، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 70 اسپتال پروگرام میں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جو وزیر اعظم صحت کارڈ استعمال نہیں کر رہا، باقی تمام صوبوں میں یہ سہولت حاصل ہے، وزیر اعظم کے وژن اور قیادت سے صحت کا نظام مضبوط اور پائیدار ہوگا، وزیر اعظم صحت کارڈ ملک میں صحت کی سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا تاریخی قدم ہے، کراچی میں صحت کارڈز کیلیے 16 اسپتال مختص کیے گئے ہیں۔
600 سے زائد اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی
وزیر اعظم صحت کارڈ پروگرام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ یکم جنوری 2016 کو صحت کارڈ کے جس سفر کا آغاز کیا گیا تھا وہ اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کر چکا ہے، غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد لوگ خط غربت سے اس لیے نیچے چلے جاتے ہیں کہ وہ صحت کے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے، صحت کارڈ پروگرام کا اجرا تاریخی اقدام ہے، اس سے ہر پاکستانی کیلیے کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی، 600 سے زائد اسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت حاصل ہوگی، کہیں بھی رقم کی ادائیگی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، شناختی کارڈ اور بچوں کے ب فارم کو صحت کارڈ کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا، صحت کارڈ پروگرام ہر پاکستانی کیلیے کیش لیس علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ 10 سال کی کوششوں کے بعد یہ پروگرام یونیورسل ہے، 600 سے زائد پبلک اور پرائیویٹ اسپتال کیش لیس علاج فراہم کریں گے، گلگت کے پہاڑی علاقوں سے لے کر گوادر کے ساحلوں تک ہر کسی کو مفت سہولت حاصل ہوگی، یہ نظام مستقبل میں وبائی امراض یا ایمرجنسی کی صورت میں فوری رسپانس کیلیے مددگار ثابت ہوگا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیراور گلگت بلتستان کیلیے وزیر اعظم صحت کارڈز بھی تقسیم کیے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


