سعودیہ کو منانے کے لیے وزیراعظم ٹروڈو کو خود ریاض جانا چاہیے، جان بائرڈ
The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ کو منانے کے لیے وزیراعظم ٹروڈو کو خود ریاض جانا چاہیے، جان بائرڈ

اوٹاوا/ریاض : کینیڈا کے سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کینیڈا اور سعودی عرب کا ایران، اخوان المسلمون کے خلاف یکساں مؤقف ہے اور داعش کے خلاف جنگ کے اتحادی ہیں۔ وزیر اعظم ٹروڈو کو خود سعودیہ جاکر معاملات حل کرنے چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے کینیڈا کے سابق وزیر خارجہ جان بائرڈ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ کی وجہ بے جا ٹویٹ ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے گفتگو کرتے ہوئے جان بائرڈ نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور کینیڈا برسوں سے اچھے اتحادی تھے، لیکن کینیڈین حکومت کی جانب سے تنقید کی پالیسی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ایک حد پہنچی ہے۔

عربی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کینیڈا کے سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت کو اپنے حامی اور دوست ملک کے خلاف کسی قسم کا بھی مؤقف دینے کے بجائے اختلافات پر وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو ہونی چاہیئے تھی۔

کینیڈا کے سابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کینیڈا اور سعودی عرب کا ایران، اخوان المسلون اور داعش کے خلاف یکساں مؤقف ہے اور دونوں ممالک نے عالمی دہشت گرد تنظیم کے خلاف متحد ہوکر محاز آرائی کی ہے۔

جان بائرڈ نے کینیڈین وزیر اعظم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جسٹن ٹروڈوکا خود سعودی عرب جاکر شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے مذکورہ معاملے پر گفتگو کرکے کشیدگی ختم کرنی چاہیے۔

یاد رہے کہ کینیڈا کی وزارت خارجہ اور ریاض میں سفارت خانے کی جانب سے سعودی عرب میں گرفتارسماجی کارکنان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے مطابق معاملے پرکینیڈا کا موقف ملکی معاملات میں واضح مداخلت ہے۔


کینیڈا سعودیہ تنازعہ، جسٹن ٹروڈو نے معاملہ حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی


داخلی معاملات میں مداخلت کے بعد سعودی عرب نے کینیڈا سے درآمد کیے جانے والے اجناس پر پابندی عائد کر دی تھی، یہ امر اہم ہے کہ سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان دو طرفہ تجارت کا سالانہ حجم چار ارب ڈالر کے مساوی ہے۔

خیال رہے کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ جاری سفارتی تعلقات میں تنازعے کے حل کے لیے متحدہ عرب امارت اور برطانوی حکومت سے رابطہ بھی کیا ہے تاکہ وہ سعودی عرب کے ساتھ جاری سفارتی تنازعہ کو دوستی میں بدلنے کے لیے کردار ادا کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں